ریاست پاکستان نظریہ اسلام ہی کا عملی اظہار ہے، مفتی محمد کریم
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بھارتی مفتی شمائل ندوی کے بیان کے ردعمل میں چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلام کو ریاستی مذہب تسلیم کرتا ہے، قراردادِ مقاصد آئین کا مستقل حصہ ہے، آئین پاکستان میں درج ہے کہ یہاں پر کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن ہو سکتا، 14 صدیوں میں واحد ملک پاکستان ہی ہے جو ریاست طیبہ کے بعد کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ پاکستان اور رکن قومی پیغام امن کمیٹی ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان نے مفتی شمائل ندوی کے حالیہ بیان پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مفتی شمائل ندوی بتلائیں انہوں نے بھارت میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے کیا کوششیں کی ہیں؟ یہ بھی بتلائیں کہ افغانستان کا ہندوستان کیساتھ پاکستان مخالف دفاعی معاہدہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی، بھارت میں مسلمانوں پر مودی حکومت کے ظلم و ستم کیخلاف انہوں نے کیا جہدوجہد کی ہے، مفتی شمائل ندوی بتلائیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواجِ کے ظلم و ستم شرعی ہیں یا غیر شرعی، مفتی شمائل ندوی بھارتی ترانے بندے ماترم کے بارے میں بھی بتلائیں کہ وہ شرکیہ ہیں یا نہیں، بہتر ہے مفتی شمائل ندوی اپنے موضوع الحاد اور سیکولر ازم تک ہی محدود رہیں۔
انہوں نے کہا پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی خطہ حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست کے طور پر عمل میں آیا، جس کی بنیاد لا إله إلا الله پر رکھی گئی، پاکستان کو اسلامی ریاست نہ ماننا دراصل نظریہ پاکستان کی صریح نفی اور قیامِ پاکستان کے اصل مقصد سے انحراف کے مترادف ہے، ریاست پاکستان نظریہ اسلام ہی کا عملی اظہار ہے کیونکہ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی آزاد ریاست کا مطالبہ کیا تھا جہاں وہ اسلام کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزار سکیں، ایسے میں کسی عالمِ دین کی جانب سے پاکستان کی اسلامی حیثیت کو مشکوک بنانا نہایت افسوسناک، فکری انتشار اور گمراہی کا سبب ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئین اسلام کو ریاستی مذہب تسلیم کرتا ہے، قراردادِ مقاصد آئین کا مستقل حصہ ہے، آئین پاکستان میں درج ہے کہ یہاں پر کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن ہو سکتا، 14 صدیوں میں واحد ملک پاکستان ہی ہے جو ریاست طیبہ کے بعد کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی۔ لہٰذا پاکستان کی اسلامی شناخت سے انکار دراصل آئینی، تاریخی اور دینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نوجوان نسل کو نظریاتی کنفیوژن میں مبتلا کرنے اور دشمن قوتوں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں اور امتِ مسلمہ کے اندر انتشار کا باعث بنتے ہیں، وطن عزیز کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے تاہم پاکستان کی نظریاتی اور اسلامی اساس پر کسی قسم کا حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔