بنگلا دیش: نئی انتخابی صف بندیاں
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-03-3
بنگلا دیش میں 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے، انتخابی معرکے میں کامیابی کے لیے سیاسی جماعتیں انتخابی صف بندیوں اور اتحاد کی تشکیل میں مصروف ہیں، حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے سوا بنگلا دیش کی تمام سیاستی جماعتیں انتخابی عمل میں شامل ہیں، طویل عرصے تک عاید رہنے والی پابندی کے خاتمے کے بعد جماعت ِ اسلامی بھی بھر پور تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اُتری ہوئی ہے، بنگلا دیش کے طول و عرض میں نہ صرف فقید المثال عوامی جلسے کیے جارہے ہیں بلکہ جماعت ِ اسلامی کی زیر قیادت آٹھ جماعتی انتخابی اتحاد بھی قائم ہوچکا ہے اور یہ اتحاد بنگلا دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑی قوت بن کر ابھرا ہے، اس اتحاد کا مقصد ملک میں اسلامی نظام کا قیام اور انتخابی اصلاحات کو یقینی بنانا ہے، جس پر تمام جماعتوں نے بھر پوراتفاق کیا ہے۔ اس انتخابی اتحاد میں اسلامی تحریک بنگلا دیش، خلافت مجلس، بنگلا دیش خلافت مجلس، بنگلا دیش خلافت تحریک، بنگلا دیش نظامِ اسلام پارٹی، جاتیہ جمہوری پارٹی، بنگلا دیش ڈیولپمنٹ پارٹی شامل ہے۔ اتوارکے روز لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے بھی بنگلا دیش جماعت ِ اسلامی کی قیادت میں قائم 8 جماعتی اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی ہے جس کے نتیجے میں پیش آمدہ انتخابات میں اسلام پسندوں کی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی ہے، جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کے امیر شفیق الرحمن نے اتحاد میں مزید دو جماعتوں کی شمولیت کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی زیر قیات اتحاد کی جانب سے تمام 300 حلقوں کے لیے امیدواروں کی فہرست مشاورت کے ذریعے تقریباً مکمل کرلی گئی ہے جبکہ باقی کام کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے بعد منصفانہ طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی بنگلا دیش کی ایک نئی سیاسی جماعت ہے جو عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے لیے بنگلا دیش کے طلبہ رہنماؤں نے تشکیل دی تھی، یہ پارٹی طلبہ تحریک میں شامل طالب علم رہنماؤں کی جانب سے تشکیل دی گئی تھی، جو شیخ حسینہ واجد کی 15 سالہ حکمرانی کے خاتمے کا سبب بنی۔ ابتداء میں یہ ایک پلیٹ فارم تھا، لیکن اکتوبر میں باضابطہ پارٹی کی شکل دی گئی، ناہید اسلام نیشنل سٹیزن پارٹی کے بانی کنوینر اور مرکزی رہنما ہیں۔ جماعت ِ اسلامی کے انتخابی اتحاد میں شمولیت کے موقع پر ناہید اسلام کا کہنا تھاکہ این سی پی نے ابتداء میں تمام 300 پارلیمانی نشستوں پر آزادانہ طور پر انتخابات لڑنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن شریف عثمان ہادی کی شہادت نے ملک کی سیاسی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتخابی سمجھوتا ہے۔ ہم نے اہم مسائل پر اتفاق رائے حاصل کیا ہے۔ مل کر ہم انتخابات میں حصہ لیں گے۔ دوسری جانب بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمن بھی گزشتہ دنوں 17 سالہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلادیش لوٹے ہیں، طارق رحمن 2008 میں 18 ماہ قید کے بعد علاج اور دیگر وجوہات کی بنا پر برطانیہ چلے گئے تھے۔ طارق رحمن کو بنگلادیش کے مستقبل کے وزیر اعظم کے لیے مضبوط امیدواروں میں سے ایک سمجھا جارہا ہے۔ حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ کی انتخابی عمل سے بے دخلی کے بعد بظاہر کوئی سیاسی جماعت تنہا اکثریت حاصل کرتی نظر نہیں آرہی اسی لیے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی بھی دیگر جماعتوں سے انتخابی اشتراک کی راہیں تلاش کر رہی ہے اس ضمن میں اس نے جمعیت علمائے اسلام بنگلا دیش کے ساتھ ایک انتخابی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت آنے والے قومی انتخابات میں پارٹی چار پارلیمانی حلقوں کو جمعیت علمائے اسلام کے لیے چھوڑ دے گی۔ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت بی این پی ان چار حلقوں میں کوئی امیدوار نہیں کھڑا کرے گی اور اس فیصلے کی سختی سے پابندی کی جائے گی، انہوں نے انضباطی کارروائی کی تنبیہ بھی کی اور کہا کہ اگر کوئی رہنما ان نشستوں پر باغی امیدوار کے طور پر انتخابات لڑے گا تو اس کے خلاف پارٹی کی تنظیمی کارروائی کی جائے گی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش میں حسینہ واجد کی پندرہ سالہ دورِ حکومت کے خاتمے کا سیاسی فائدہ صرف جماعت ِ اسلامی ہی کو حاصل نہیں ہوگا، عوامی لیگ کی انتخابی عمل سے بے دخلی سے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی عوامی لیگ کے ووٹ بینک کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے تاہم جماعت ِ اسلامی کی زیر ِ قیادت دس جماعتی اتحاد کے قیام نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکا میں قائم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے دسمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، این سی پی صرف 6 فی صد عوامی حمایت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ بی این پی 30 فی صد اور جماعت ِ اسلامی 26 فی صد حمایت کے ساتھ آگے ہیں۔ بنگلا دیش میں جاری انتخابی سرگرمیوں میں عوام کی شرکت اور مختلف سرویز اس امر کا واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور غیر جابندارانہ انتخابات کے نتیجے میں بنگلا دیش کا منظر نامہ بدلنے والا ہے، موجودہ انتخابات بنگلا دیش کے عوام کا بھی امتحان ہے کہ وہ اپنے حقیقی نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں یا اپنا ووٹ روایتی سیاسی پارٹیوں کے حق میں استعمال کرتے ہیں تاہم موجودہ سیاسی منظر نامہ اسلام پسندوں کی کامیابی کا واضح اشارہ دے رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حسینہ واجد کی بنگلا دیش کے اسلامی کی عوامی لیگ اتحاد میں بی این پی کے خاتمے کے ساتھ کا کہنا کے لیے کے بعد دیش کی
پڑھیں:
بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل تین جون بروز بدھ شام پانچ بجے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل چلاس میں واقع فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔