ابو عبیدہ، القسام بریگیڈ کا پراسرار ترجمان حقیقت میں کون تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
غزہ کی پٹی کے جبالیا مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان، جو برسوں تک پردے کے پیچھے رہا، وقت گزرنے کے ساتھ فلسطینی مزاحمت کی سب سے پہچانی جانے والی آواز بن گیا۔ دنیا اسے ابو عبیدہ کے نام سے جانتی ہے، جب کہ اس کا اصل نام حذیفہ سمیر الکحلوت بتایا جاتا ہے۔
عسقلان سے جبالیا تک: ایک بے گھر خاندان کی داستانتاریخی شہر عسقلان، جسے آج اشکلون کہا جاتا ہے، فلسطینی خاندان الکحلوت کا آبائی علاقہ تھا۔ 1948ء کے نکبہ کے بعد یہ خاندان دیگر ہزاروں فلسطینیوں کی طرح ہجرت پر مجبور ہوا اور غزہ کے جبالیا مہاجر کیمپ میں آ بسا۔
یہ بھی پڑھیے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ابوعبیدہ کی شہادت کی تصدیق کردی
اسی مہاجر کیمپ میں 11 فروری 1984ء کو سمیر الکحلوت کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام حذیفہ رکھا گیا۔ خیموں، تنگ گلیوں اور محدود سہولتوں میں پرورش پانے والے اس بچے نے کم عمری میں ہی مہاجر زندگی کی سختیاں دیکھ لیں۔
بچپن اور ابتدائی تربیتجبالیا کیمپ کا ماحول حذیفہ کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ خاندانی سطح پر دینی تعلیم، قرآن سے وابستگی اور اخلاقی تربیت کو خاص اہمیت دی گئی۔ کم عمری میں قرآن حفظ کرنے کی کوشش اور مضبوط یادداشت نے اسے ہم عمر بچوں سے ممتاز کر دیا۔
قریبی افراد کے مطابق، کیمپ کی زندگی نے اس میں صبر، برداشت اور ثابت قدمی کو فروغ دیا، جو بعد ازاں اس کی عملی زندگی میں نمایاں نظر آئے۔
تعلیمی سفر: جامعہ اسلامیہ غزہ تکحذیفہ نے ابتدائی تعلیم مقامی مدارس سے حاصل کی، بعد ازاں اسلامی یونیورسٹی غزہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔
2013ء میں اس نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کا تحقیقی موضوع’ ارضِ مقدس: یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے درمیان تاریخی تعلق
‘ تھا۔
ابوعبیدہ کے اساتذہ کے مطابق وہ ایک سنجیدہ طالب علم تھا، جس میں تحقیق، گفتگو اور دلائل کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت نمایاں تھی۔ بعد میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، تاہم عملی مصروفیات کے باعث یہ تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔
مزاحمتی سفر کا آغاز2002ء میں حذیفہ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے میڈیا و اطلاعاتی شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ اسی دور میں اسے ’ابو عبیدہ‘ کا نام دیا گیا، جو اسلامی تاریخ کے معروف صحابی سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی نسبت سے رکھا گیا۔
جلد ہی وہ تنظیم کے میڈیا ترجمان کے طور پر سامنے آیا، تاہم اس نے ہمیشہ اپنی شناخت مخفی رکھی۔ ابتدا میں سیاہ نقاب اور بعد ازاں سرخ دھاریوں والا کوفیہ اس کی پہچان بن گیا۔
میڈیا میں ظہور اور عالمی توجہابو عبیدہ پہلی مرتبہ 2004ء میں ویڈیو بیانات کے ذریعے عوامی سطح پر نمایاں ہوا۔
جون 2006ء میں ایک اہم کارروائی کے بعد جاری کیے گئے بیان نے اسے فلسطینی مزاحمت کی مرکزی آواز بنا دیا۔
History will remember Abu Obeida as a titan of resistance while Zionist leaders will be remembered as the butchers of #Gaza His martyrdom is a victory a rallying cry that will bring the apartheid entity closer to its end
” Martyr Never Die✌???????????? ???????? “#IslamvsKufr #Hamas #AlQassam pic.
— Faiz Al Hind (@ImFaiz_07) December 29, 2025
اس کے بیانات مختصر، نپی تلی زبان اور دعووں میں احتیاط کے باعث خاص توجہ حاصل کرتے رہے۔ عرب اور بین الاقوامی میڈیا میں اس کے بیانات کو باقاعدگی سے رپورٹ کیا جانے لگا۔
عوامی تاثر اور علامتی حیثیتوقت کے ساتھ ابو عبیدہ ایک علامتی کردار بن گیا۔ غزہ میں بچے اس کے انداز کی نقالی کرتے دکھائی دیے، جب کہ اس کی تصاویر اور نقاب مزاحمت کی علامت کے طور پر استعمال ہونے لگیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا محتاط اور مربوط بیانیہ تھا، جس میں جذبات کے بجائے پیغام پر زور دیا جاتا تھا۔
ذاتی زندگی: مکمل رازداریابو عبیدہ نے اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ عوامی نظروں سے دور رکھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ 4 بچوں کا والد تھا۔ قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دیتا تھا اور سادہ زندگی گزارتا تھا۔
مسلسل خطرات اور نشانہ بنائے جانے کے دعوے2002ء سے 2025ء کے دوران وہ بارہا اسرائیلی کارروائیوں کا مبینہ ہدف رہا۔ مختلف اوقات میں اس کے مبینہ ٹھکانوں اور قریبی علاقوں پر حملے کیے گئے، تاہم وہ طویل عرصے تک محفوظ رہا۔
شہادت کا اعلان اور ردِعمل30 اگست 2025ء کو اسرائیلی فضائی حملے میں اس کی شہادت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے میں اس کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک بیٹے کے زندہ بچنے کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ابو عبیدہ کون ہیں اور کیوں مشہور ہو رہے ہیں ؟
کئی روز تک اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہ آ سکی، تاہم بعد میں مزاحمتی تنظیم کی جانب سے اس کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی۔
اثرات اور وراثتسیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ابو عبیدہ کی موت کے باوجود اس کا بیانیہ اور اسلوب بدستور زندہ ہے۔ تنظیم نے نئے ترجمان کے لیے بھی وہی نام برقرار رکھنے کا اعلان کیا، جسے علامتی تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
ابو عبیدہ ایک فرد سے بڑھ کر ایک علامت بن چکا تھا، جس کا کردار فلسطینی مزاحمتی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابوعبیدہ ترجمان القسام بریگیڈز حماس غزہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترجمان القسام بریگیڈز کے مطابق
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔