اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کیلئے سفارتی استثنیٰ ختم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے انروا کے لیے سفارتی استثنیٰ ختم کرنے سے متعلق قانون کی منظوری دے دی، جس کے بعد اس ادارے کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں قانونی کارروائی ممکن ہو جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں واقع انروا کے دو دفاتر ضبط کر سکیں گے، جبکہ اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے سے بھی روک دیا جائے گا۔
اس حوالے سے انروا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے اس ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ انروا پورے مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل گزشتہ سال ہی انروا پر پابندی عائد کر چکا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔