قومی ٹیم کی کامیابیوں کا سال،2025 میں پاکستانی بولرز نے نئی تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
عباس، ساجد، نعمان علی، نواز، حسن علی، سعدیہ اقبال اور فاطمہ ثناء بولنگ کے شعبے میں چار چاند لگائے
سہ فریقی سیریز، ہانگ کانگ سکسز، ایمرجنگ ایشیا کپ اور انڈر 19 ایشیا کپ کے ٹائٹل اپنے نام کیے
سال 2025 کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے جہاں سہ فریقی سیریز، ہانگ کانگ سکسز، ایمرجنگ ایشیا کپ اور انڈر 19 ایشیا کپ کے ٹائٹل اپنے نام کیے وہیں متعدد کھلاڑی نے انفرادی طور پر بھی اہم ریکارڈز اپنے کیے۔قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی سال بھر کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو محمد عباس، محمد ساجد، نعمان علی، محمد نواز، حسن علی، سعدیہ اقبال اور فاطمہ ثناء نے بولنگ کے شعبے میں چار چاند لگائے۔سال کے آغاز میں پاکستان کی اسپن جوڑی ساجد خان اور نعمان علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اہم ریکارڈز اپنے نام کیے۔ دو میچز کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی۔بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے نعمان علی کی بات کی جائے تو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں 16 وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت نعمان علی آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ٹاپ 5 بولرز میں شامل ہوگئے۔ٹیسٹ سیریز کے دوران نعمان علی کا سب سے بڑا کارنامہ ہیٹ ٹرک کا ہے۔ اسپنر کی حیثیت سے ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے نعمان علی پہلے پاکستانی ہیں تاہم ٹیسٹ کی تاریخ میں پانچویں پاکستانی بولر ہیں۔نعمان علی سے قبل سن 1999 میں وسیم اکرم نے سری لنکا کے خلاف دو مرتبہ ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔ عبدالرزاق نے 2000 میں سری لنکا کے خلاف، محمد سمیع نے 2002 میں سری لنکا کے خلاف اور نسیم شاہ نے 2020 میں بنگلا دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی۔اسی ٹیسٹ سیریز میں نعمان علی نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں اور میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔رواں سال اکتوبر میں جنوبی افریقا کے خلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں بھی نعمان علی نے اپنی کارکردگی کے جوہر دکھائے۔ پہلے ٹیسٹ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے پر انہیں پلیٔر آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں وہ صرف 4 وکٹیں لے سکے تھے۔نعمان علی نے سابق لیگ اسپنر عبد القادر کا 37 سال پرانا ریکارڈ بھی توڑا۔ انہوں نے مسلسل 5 ٹیسٹ میچز میں 46 وکٹیں لیں جبکہ سابق اسپنر نے 44 وکٹیں حاصل کی تھیں۔واضح رہے کہ نعمان علی ٹیسٹ میں تین مرتبہ 10 وکٹیں اور 9 مرتبہ 5 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ 21 میچز میں 97 وکٹیں بھی اپنے نام کر رکھی ہیں۔پاکستانی اسپنر نعمان علی اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔اسپن جوڑی کے دوسرے بولر ساجد خان، جو دائیں بازو سے آف اسپن کرتے ہیں، نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 4 اور دوسری اننگز میں 5 وکٹیں اپنے نام کی، جس نے قومی ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔پہلے ٹیسٹ میں 9 وکٹیں اپنے نام کرنے والے ساجد خان اپنی تیز ترین 50 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستان کے تیسرے بولر بھی بنے۔ انہوں نے یہ کارنامہ محض 11 میچز میں انجام دیا۔ساجد خان سے قبل سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ نے تیز ترین 50 وکٹوں کا ریکارڈ محض 9 میچز میں اپنے نام کیا تھا۔رواں سال جنوبی افریقا کے خلاف اکتوبر میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں ساجد خان نے پہلے میچ میں 5 اور دوسرے میچ میں ایک وکٹ لی تھی۔سال 2024 کے آخر میں پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی جس کا دوسرا ٹیسٹ 2025 کے شروع میں ہوا۔دو میچز کی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم سیریز میں فاسٹ بولر محمد عباس نے اپنی 100 وکٹیں مکمل کیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ 27 میچز میں انجام دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ٹیسٹ سیریز میں نعمان علی نے میں پاکستان اپنے نام کی وکٹیں حاصل کرنے والے میچز میں ٹیسٹ میں ایشیا کپ انہوں نے کے خلاف ہیٹ ٹرک
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔