بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے
بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں،وزیر داخلہ ، ایڈیشنل آئی جی کی پریس کانفرنس
(رپورٹ: افتخار چوہدری)کمسن لڑکی کو بی ایل اے دہشت گردوں کے خودکش منصوبے سے بچا لیا گیا جب کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش حملہ آور بنانے کے انسانیت سوز اور گھنانے فعل میں بھی ملوث ہے۔وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے تہلکہ خیز پریس کانفرنس کی، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو پریس کانفرنس میں موجود تھے۔پریس کانفرنس میں خودکش حملہ آور بنانے کا ٹارگٹ بنائی گئی بلوچ بچی اور والدہ کی گفتگو بھی شناخت مخفی رکھ کر میڈیا کے سامنے جاری کردی گئی۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں کے مکروہ عزائم کیسے ناکام بنائے، ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں۔وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ یہ میرے پیچھے جو بچی دیکھ رہے ہیں یہ بلوچستان سے ہیں، ان کی مختلف لوگوں ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، بچی ایک عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آج بھی پوری فیملی حکومت پاکستان سے پینشن لے رہی ہے، بچی کا ایک بھائی پولیس اور ایک سول ادارے میں ہے۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور موثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں، اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، متاثرہ بچی کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جا رہی ہے، ریاست اس کی عزت، تحفظ اور مستقبل کی ضامن ہے۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے کہا کہ کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنا دی گئی، کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، 25 دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گرد ہینڈلرز نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پاکستان مخالف اور غیر ملکی پشت پناہی یافتہ مواد کے ذریعے ذہن سازی کی گئی، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ کیا اور بعد ازاں خودکش حملے پر اکسانا شروع کیا، بچی کو کراچی بھیجا گیا، گھر والوں کو جھوٹ بول کر روانگی اختیار کی گئی، پولیس ناکوں پر چیکنگ کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہو گئی۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا، تفتیش کا عمل جاری ہے۔متاثرہ بچی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں، اور آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا، جب رابطہ کار کو معلوم ہوا کہ میرے والد نہیں ہیں تو اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے مزید پھنسایا، واٹس ایپ گروپس میں BLA کی کارروائیوں کو بہادری بنا کر پیش کیا گیا، جو سراسر دھوکا تھا۔متاثرہ بچی نے کہا کہ میری پڑھائی متاثر ہونے لگی اور ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، میں نے گھر سے نکلنے کے لیے بہانہ بنایا، آج سمجھ آیا کہ میں کس تباہی کی طرف جا رہی تھی، ناکے پر پوچھ گچھ ہوئی تو میں شدید گھبرا گئی، میں بلوچ ہوں، ہماری روایات عورت کی عزت سکھاتی ہیں، عورتوں اور بچیوں کو قربان کرنا بلوچیت نہیں۔متاثرہ بچی کے مطابق جو لوگ قربانی کے نام پر گروپس میں شامل کرتے ہیں وہ مددگار نہیں بلکہ شکاری ہوتے ہیں، اگر کوئی کہے بڑا مقصد ہے اس لیے جان دے دو، تو سمجھ لو وہ تمہاری زندگی کا دشمن ہے۔بچی کی والدہ نے کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے، ریاست نے ماں کی طرح میری بچی کی جان بھی بچائی اور اس کی عزت بھی مکمل طور پر محفوظ رکھی۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نفرت اور دہشت گرد مواد کے خلاف سخت چیکس لگائیں، اکانٹس بند کریں اور الگورتھمز درست کریں، زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سہولت کاروں اور نیٹ ورکس کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، والدین بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، ایک موبائل پورے خاندان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق سی ٹی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم غیر متزلزل ہے۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان نے کہا کہ اس بچی کا بلوچستان سے تعلق ہے اور عام سے اسکول میں زیر تعلیم ہے، یہ بچی بھی عام بچوں کی طرح موبائل استعمال کرتی ہے،بچی سے بی ایل اے کے ہیلڈر نے رابطہ کیا اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا گیا، اس کو یہ کہا گیا کہ آپ سے ایک بڑا کام لینا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بچی کو ایک خاتون نے وہاں سے لیا اور پھر اس کی مزید زہن سازی کی گئی، چیکنگ کے دوران بچی ہمیں ملی پھر جب اس کو تھانے لے جایا گیا تو بچی سے تمام چیزیں بتائیں، اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ بچی پر کوئی کریمنل کیس نہیں بنایا جائے، اس لیے بچی کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ سندھ نے کہا کہ پریس کانفرنس متاثرہ بچی سوشل میڈیا بی ایل اے بلوچ بچی کے مطابق واٹس ایپ سازی کی اور ایک کیا گیا بچی کی بچی کو کی گئی
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔