امریکا اور اسرائیل کو ایران کا واضح پیغام، کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئے ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی دھمکی دی تھی۔
علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں کسی بھی دباؤ کے تحت محدود نہیں کی جا سکتیں اور اس کے لیے کسی بیرونی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔
یہ ردعمل ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مشترکہ نیوز کانفرنس کے بعد سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایران دوبارہ جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہر ممکن خطرے کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیںاوباما نے ایران کو جوہری ہتھیار کیلیے اربوں ڈالرز دیئے؟ ٹرمپ کے بیان کی حقیقت کیا ہے؟
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا کہ ایران اسرائیل کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی مہم جوئی کا ردعمل ماضی کی بارہ روزہ جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اطلاعات ہیں کہ اسرائیل، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائی پر زور دے رہا ہے۔
اسی دوران ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون روک دیا ہے اور ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مستقبل میں کسی بھی جوہری معائنے کے لیے قومی سلامتی کونسل کی منظوری لازمی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ایران کسی بھی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔