اسرائیل کی جانب سے ایران سے بھیجے گئے ایس ایم ایس پر شہریوں کے لئے سائبر وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
نیشنل سائبر مینجمنٹ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام محض اسپیم یعنی بڑے پیمانے پر پیغامات بھیجنے تک محدود ہے اور تاحال کسی بھی وصول کنندہ کے موبائل فون یا صارف اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ اسلام ٹائمز۔ صہیونی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں کو ایرانی نمبروں سے موصول ہونے والے ایس ایم ایس پیغامات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی اداروں اور نیشنل سائبر مینجمنٹ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ایرانی نمبروں سے مقبوضہ فلسطین کے رہائشیوں کو مشتبہ پیغامات بھیجنے کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بہت سے اسرائیلی شہریوں کو ایسے ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں جن میں سیاسی اور تشہیری مواد شامل ہے۔
اسرائیلی نیشنل سائبر مینجمنٹ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام محض اسپیم یعنی بڑے پیمانے پر پیغامات بھیجنے تک محدود ہے اور تاحال کسی بھی وصول کنندہ کے موبائل فون یا صارف اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ تاہم اس ادارے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان پیغامات پر کسی بھی قسم کا ردِعمل ظاہر نہ کریں۔ ان میں سے ایک پیغام کے متن میں لکھا گیا تھا کہ جمہوری اسلامی ایران کے سفارت خانوں کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ شہری ان پیغامات کا جواب نہ دیں، بھیجنے والے نمبر کو فوراً بلاک کر دیں اور ان پیغامات کو دوسروں تک آگے نہ بھیجیں تاکہ ممکنہ نفسیاتی کارروائی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اس قسم کے اقدامات عموماً نفسیاتی جنگ، ممکنہ جوابات اکٹھا کرنے یا معلوماتی و جاسوسی سرگرمیوں کے لیے کیے جاتے ہیں، اگرچہ اس مخصوص معاملے میں زور دیا گیا ہے کہ ان پیغامات کو صرف نظرانداز کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ان پیغامات
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔