طالبان دور میں سیکیورٹی بحران شدید، افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ ملک قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
معروف عالمی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP) نے اپنی سالانہ گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق افغانستان ایک بار پھر دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں شامل ہے اور امن کی صورتحال میں مسلسل بگاڑ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان عالمی امن اشاریے میں 163 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ آئی ای پی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں افغانستان میں امن کی مجموعی صورتحال میں 0.
گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ اور کمزور ملک بن چکا ہے، جہاں تمام بنیادی امن اشاریوں میں بدترین کارکردگی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تشدد، ہتھیاروں کی آسان دستیابی، کمزور حکمرانی اور مسلسل عدم استحکام نے ملکی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
آئی ای پی نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں سرگرم مسلح دہشت گرد گروہ نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان گروہوں کو جدید ہتھیاروں تک وسیع رسائی حاصل ہے، جس سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیںطالبان دور میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا، قتل، تشدد اور گرفتاریاں بے نقاب
طالبان حکومت میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد 40 لاکھ سے زائد ہوگئی؛ اقوام متحدہ
طالبان حکومت کے بعد افغانستان کی معیشت تباہ ہوگئی، اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران نے نوجوانوں کو شدت پسند عناصر کے اثر میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان، کے لیے بھی مسلسل خطرے کا باعث بن رہی ہے۔
آئی ای پی کے مطابق افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہیں، اور 2025 کے موجودہ حالات میں یہ اثرات مزید پیچیدہ اور سنگین ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان عالمی فورمز پر افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے شواہد پیش کرتا رہا ہے۔
افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران خطے کے امن کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا. گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے. سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا. گرفتار دہشت گردوں میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کاروائی میں دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں. کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے. حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں دہشتگردوں کی مذموم کاروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔