دھند میں کمی، لاہور اسلام آباد موٹروے ٹریفک کے لیے بحال
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وقاص احمد: دھند میں کمی کے بعد لاہور اسلام آباد موٹروے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق حدِ نگاہ میں بہتری آنے پر موٹروے کو بحفاظت آمد و رفت کے لیے بحال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق لاہور اسلام آباد موٹروے کو گزشتہ رات 10 بجے شدید دھند کے باعث بند کیا گیا تھا، تاہم موسم بہتر ہونے کے بعد آج صبح موٹروے دوبارہ کھول دی گئی۔ اسی طرح حدِ نگاہ میں واضح بہتری کے بعد موٹروے ایم 4 کو بھی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔
ڈورپھرنےسےشدیدزخمی 2 سالہ زینب کی جناح ہسپتال میں سرجری
موٹروے پولیس نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ سفر کے دوران رفتار کم رکھیں، فوگ لائٹس کا استعمال کریں اور محفوظ فاصلے کا خاص خیال رکھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔