پاکستان میں سماجی سرمایہ کاری کے نئے مالیاتی فریم ورک کا اجرا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے پر مرکوز ہے، کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اصل چیلنج پالیسیوں کے اعلان کے بجائے نتائج کے حوالے سے نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کا افتتاح کر دیا
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی پر مشتمل ملک ہے اور سالانہ آبادی میں اضافہ کی شرح تقریباً 2.
ان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے لیے پائیدار معاشی بہتری کی جانب بڑھنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے مؤثر مالیاتی اور ترقیاتی ماڈلز اپنانے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی 100 ارب ڈالر ’بلیو اکانومی‘ کی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہوگا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس تقریب کا مقصد پاکستان کا سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک مشترکہ طور پر تشکیل دینا تھا، تاکہ سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کو منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فریم ورک محض ایک پالیسی بیان نہیں بلکہ ایک جامع مالیاتی ڈھانچہ ہے، جو نتائج پر مبنی فنڈنگ کو فروغ دے گا۔
مزید پڑھیں: روس سے تیل و توانائی کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر مشاورت جاری ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سوشل امپیکٹ بانڈ کے تحت خاص طور پر نوجوان خواتین پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ انہیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔
انہوں نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور ابتدائی اسٹیئر کوڈیل ٹیم کو اس تاریخی اقدام کے اجرا پر مبارکباد بھی دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مراحل میں نتائج پر مبنی فنڈنگ کو مزید وسعت دی جائے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی جانب پیش رفت کی جائے گی، تاکہ سماجی اور معاشی ترقی کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
محمد اورنگزیب وزیر خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔