یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے بعد بہن نے عدالت سے انصاف کی اپیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ان کی بہن غزل جواد بھی سامنے آ گئیں۔
غزل جواد نے کہا کہ ایک وکیل کس طرح عدالت میں کسی آدمی پر حملہ کر سکتا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وکیل ہونا اس تشدد کو جائز بناتا ہے؟ کیا یہی ہمارا قانون بن گیا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ اس دن ہمارا قانون کہاں تھا؟
انہوں نے رجب بٹ کے لیے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انصاف مانگنا انتشار نہیں ہے۔ حملہ آوروں کی جوابدہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جوابدہی قانون اور آئین کی طاقت کے ذریعے ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاکی بڑی تعداد نے یوٹیوبر رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کےبعد رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کی جانب سے یوٹوبر رجب بٹ پر حملے میں ملوث وکلاء کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست جمع کرائی ہے۔
درخواست کے مطابق تشدد کے نتیجے میں رجب بٹ کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں جن کے طبی شواہد اور تصاویر بھی محفوظ کی گئی ہیں۔ حملہ آوروں نے موکل کا بیگ بھی زبردستی چھین لیا جو بعد ازاں واپس کر دیا گیا لیکن بیگ سے 3 لاکھ روپے غائب تھے جو عدالت کے احاطے میں کھلی چوری کے مترادف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رجب بٹ رجب بٹ تشدد رجب بٹ ویڈیو وائرل غزل جواد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رجب بٹ ویڈیو وائرل غزل جواد
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔