کیا آپ کیلے ایک ماہ تک تازہ رکھنا چاہتے ہیں؟ یہ دلچسپ اور حیران کن طریقہ جان لیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گھر میں کیلے لانا اکثر ایک خوشگوار لمحہ ہوتا ہے، مگر یہ خوشی اس وقت مایوسی میں بدل جاتی ہے جب اگلے ہی روز کیلے نرم ہو کر سیاہ دھبوں سے بھر جاتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ سوچ کر کیلے کم مقدار میں خریدتے ہیں کہ کہیں وہ خراب نہ ہو جائیں جب کہ کئی گھروں میں آدھے سے زیادہ کیلے ضائع بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی اس روزمرہ مسئلے سے پریشان ہیں تو اب خوش ہو جائیں ، کیونکہ ماہرین نے ایک ایسا نہایت آسان اور دلچسپ گھریلو طریقہ بتایا ہے جو کیلوں کو تقریباً ایک ماہ تک تازہ اور مضبوط رکھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کیلوں کے جلد خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ ان کے چھلکے پر موجود جراثیم اور فنگس ہوتی ہے، جو نمی اور ماحول کی وجہ سے تیزی سے بڑھتی ہے۔ اسی لیے جب کیلے بازار سے آتے ہیں تو ان پر پہلے ہی کئی ایسے عوامل موجود ہوتے ہیں جو پکنے اور خراب ہونے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل ایک دلچسپ اور حیران کن حد تک سادہ ہے اور وہ ہے نمک ملا پانی۔
اس طریقے کے مطابق سب سے پہلے ایک صاف برتن میں پانی لیا جاتا ہے اور اس میں ایک کھانے کا چمچ عام نمک شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کیلوں کے پورے گچھے کو اس نمکین پانی میں آہستگی سے ڈبو کر چھلکے کو ہلکے ہاتھ سے صاف کیا جاتا ہے، خاص طور پر ڈنڈی والے حصے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہی حصہ سب سے پہلے خراب ہونا شروع ہوتا ہے۔ دھونے کے بعد کیلے تولیے سے اچھی طرح خشک کیے جاتے ہیں، کیونکہ اگر نمی باقی رہ جائے تو فائدے کے بجائے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمکین پانی 3 مختلف طریقوں سے کام کرتا ہے۔ سب سے پہلے تو نمک میں موجود قدرتی اینٹی سیپٹک خصوصیات کی وجہ سے کیلے کے چھلکے پر موجود نقصان دہ بیکٹیریا اور فنگس کم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ نمک ان انزائمز کی رفتار سست کر دیتا ہے جو کیلوں کو جلد پکانے میں کردار ادا کرتے ہیں، یوں ایتھیلین گیس کے اخراج میں کمی آتی ہے، جو پھلوں کے جلد خراب ہونے کی بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ڈنڈی والا حصہ نمکین پانی سے صاف ہونے کے بعد نمی کو متوازن رکھتا ہے، جس سے کیلے جھریوں اور کالے پن سے محفوظ رہتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ کیلے مزید عرصے تک تازہ رہیں تو چند اضافی احتیاطی تدابیر بھی کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کیلے کی ڈنڈی کو پلاسٹک ریپ یا ایلومینیم فوائل سے لپیٹ دینا پکنے کے عمل کو مزید سست کر دیتا ہے۔ اسی طرح کیلے کو میز پر رکھنے کے بجائے لٹکا کر رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس طرح نہ صرف وزن کا دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ ہوا کا گزر بھی بہتر رہتا ہے۔
یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ کیلے کو سیب، ٹماٹر یا ایووکاڈو جیسے پھلوں کے قریب نہ رکھا جائے، کیونکہ یہ پھل زیادہ مقدار میں ایتھیلین گیس خارج کرتے ہیں، جو کیلوں کو تیزی سے پکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس طرح کی معمولی احتیاطیں آپ کے روزمرہ کے کھانے کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاتے ہیں ہوتا ہے جاتا ہے
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔