جونیئر اسکواش میں پاکستان کی برتری برقرار: 2 کھلاڑی اسکاٹ لینڈ اوپن کے فائنل میں
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسکاٹ لینڈ میں جاری جونیئر اسکواش چیمپئن شپ کے دوران پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں نے ایک بار پھر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسکواش فیڈریشن کی جانب سے شرکت سے دستبرداری کے فیصلے اور پابندی کے باوجود 2 پاکستانی جونیئر کھلاڑی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جسے پاکستانی اسکواش کی مضبوط روایت اور نوجوان ٹیلنٹ کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈن برگ میں منعقد ہونے والی اسکاٹ لینڈ اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں بوائز انڈر 15 ایونٹ کے ٹاپ سیڈ محمد سہیل عدنان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل میں قطر کے مضبوط حریف عمر فراغ کو یکطرفہ مقابلے میں شکست دے دی۔
محمد سہیل عدنان نے پورے میچ کے دوران مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور تینوں گیمز میں اپنے حریف کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پہلا گیم 3-11، دوسرا 4-11 اور تیسرا گیم بھی 4-11 سے جیت کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
محمد سہیل عدنان کی یہ کامیابی اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ وہ نہ صرف ٹورنامنٹ کے ٹاپ سیڈ ہیں بلکہ دباؤ اور تنازع کے ماحول میں بھی ان کی کارکردگی متاثر نہیں ہوئی۔ فائنل میں ان کا مقابلہ چین کے یوان زی لیو سے ہوگا، جسے ماہرین ایک سخت اور دلچسپ مقابلہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستانی شائقین اسکواش کی نظریں اب اس میچ پر جمی ہوئی ہیں جہاں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی امید کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بوائز انڈر 13 ایونٹ میں پاکستان کے محمد مصطفیٰ خان نے بھی غیر معمولی کھیل پیش کرتے ہوئے سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے سیمی فائنل میں ٹاپ سیڈ ملائیشیا کے احمد نظرل کو مسلسل تین گیمز میں شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا۔
محمد مصطفیٰ خان نے پہلے گیم میں 4-11، دوسرے میں 6-11 اور تیسرے گیم میں 5-11 سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنائی۔ اب فائنل میں ان کا سامنا ہانگ کانگ، چائنا کے سیڈ ٹو کھلاڑی نکولس من سو چو سے ہوگا۔
اس سے قبل محمد مصطفیٰ خان نے کوارٹر فائنل میں اپنے ہم وطن محمد بن عاطف کو شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی تھی، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی جونیئر اسکواش میں اندرونی مقابلہ بھی سخت ہوتا جا رہا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کی فائنل تک رسائی نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے کہ پاکستان میں جونیئر سطح پر اسکواش کا ٹیلنٹ آج بھی عالمی معیار کا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن نے عمروں کے تعین سے متعلق شکوک و شبہات اور کیٹگریز کی تبدیلی کے تنازع کے باعث یو ایس جونیئر اوپن، اسکاٹش جونیئر اوپن اور برٹش جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے باوجود ایک درجن سے زائد پاکستانی جونیئر کھلاڑی اسکاٹش جونیئر اوپن میں شریک ہوئے، جس پر کھیلوں کے حلقوں میں بحث بھی جاری ہے۔
اس سے قبل بھی متعدد پاکستانی کھلاڑی فیڈریشن کی ہدایات کے برخلاف یو ایس جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں شرکت کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے متاثر کن کارکردگی دکھائی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے ایک طرف نوجوان کھلاڑیوں کے جذبے اور صلاحیت کو اجاگر کیا ہے تو دوسری جانب اسکواش کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسکواش چیمپئن شپ جونیئر اسکواش جونیئر اوپن اسکاٹ لینڈ فائنل میں
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔