WE News:
2026-07-24@03:29:02 GMT

سال 2025 محمد رضوان کے لیے بھیانک کیوں گزرا؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

سال 2025 محمد رضوان کے لیے بھیانک کیوں گزرا؟

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو محض رنز، کیچز یا فتوحات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی محنت، دیانت داری اور قومی جذبے کی بدولت عوام کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ محمد رضوان بھی انہی ناموں میں شامل ہیں۔ مگر سال 2025 اس قومی ہیرو کے لیے ایک ایسا سال ثابت ہوا جسے وہ شاید کبھی بھُلا نہ سکیں۔

سال کے آغاز میں محمد رضوان کو پاکستان ٹی20 ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب رضوان نہ صرف ایک مستقل پرفارمر تھے بلکہ ان کی قیادت میں ٹیم نے کئی اہم فتوحات بھی حاصل کی تھیں۔ حیران کن طور پر کچھ ہی عرصے بعد انہیں ٹی20 اسکواڈ سے بھی ڈراپ کردیا گیا، جس نے شائقین کرکٹ کو شدید مایوسی میں مبتلا کردیا۔

مزید پڑھیں: بابراعظم اور محمد رضوان کے ون ڈے ریکارڈز پر کھلاڑیوں کا شاندار جشن، ویڈیو وائرل

بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ محمد رضوان سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی بھی واپس لے لی گئی، حالانکہ ان کے دورِ قیادت میں ٹیم نے نظم و ضبط، فٹنس اور ٹیم اسپرٹ میں واضح بہتری دکھائی تھی۔ اس فیصلے نے یہ سوال پیدا کر دیا کہ آخر مستقل مزاجی، کارکردگی اور دیانت داری کی قیمت کیا ہوتی ہے؟

مزید برآں، پاکستان سُپر لیگ میں بھی محمد رضوان کو بڑا دھچکا لگا جب انہیں ملتان سلطانز کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔ وہ کپتان جنہوں نے اس فرنچائز کو مسلسل فائنلز تک پہنچایا، جن کی قیادت میں ملتان سلطانز ایک مضبوط اور منظم ٹیم کے طور پر ابھری، اچانک فیصلوں کی زد میں آ گئے۔

According to former Pakistan Captain Rashid Latif said Rizwan was removed from captaincy because he spoke for people of palestine and brought religious practices in the team which hesson didnt liked.

#ShaheenAfridi #PakistanCricket #CricketTwitter pic.twitter.com/8CMCn2CIjN

— Mustafa (@mustafamasood0) October 20, 2025

کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تمام فیصلوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا یہ ایک ایسے کھلاڑی کے ساتھ انصاف ہے جس نے ہر فارمیٹ میں پاکستان کے لیے دل و جان سے کھیل کر کارکردگی دکھائی؟ جس نے کبھی ڈسپلن پر سمجھوتا نہیں کیا اور ہمیشہ ٹیم کو اپنی ذات پر ترجیح دی؟

مزید پڑھیں: ’میری کپتانی میں بھی شاہین آفریدی کپتان ہی تھے‘ محمد رضوان نے ایسا کیوں کہا؟

سب سے تشویشناک پہلو اس پورے معاملے پر چھائی خاموشی ہے۔ سابق کرکٹرز، تجزیہ کار اور وہ آوازیں جو عام طور پر ہر معاملے پر بولتی ہیں، آج حیران کن طور پر خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ کوئی مضبوط مؤقف سامنے نہیں آ رہا، کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ آخر محمد رضوان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

یہ تاثر بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ہم بطور قوم اکثر اداروں کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ ان کھلاڑیوں کے لیے آواز نہیں اٹھاتے جو اپنی محنت اور قربانیوں سے پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں۔ کیا سچ بولنا اور حق کا ساتھ دینا اتنا مشکل ہو گیا ہے؟

سوال اب یہ ہے کہ محمد رضوان کے حق میں آواز کون اٹھائے گا؟ کون یہ پوچھے گا کہ کارکردگی، کردار اور قربانی کے باوجود ایک قومی ہیرو کو بار بار کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کوئی اور محمد رضوان بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتا ہے۔

This was for our brothers and sisters in Gaza. ????????

Happy to contribute in the win. Credits to the whole team and especially Abdullah Shafique and Hassan Ali for making it easier.

Extremely grateful to the people of Hyderabad for the amazing hospitality and support throughout.

— Muhammad Rizwan (@iMRizwanPak) October 11, 2023

مزید پڑھیں: محمد رضوان کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ، نیا کپتان کون ہوگا؟

سال 2025 محمد رضوان کے لیے محض ایک برا سال نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے احتساب اور انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی سال 2025 محمد رضوان ملتان سلطانز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی سال 2025 محمد رضوان ملتان سلطانز محمد رضوان کے پاکستان کرکٹ سال 2025 کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف