WE News:
2026-06-02@23:54:14 GMT

سال 2025 محمد رضوان کے لیے بھیانک کیوں گزرا؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

سال 2025 محمد رضوان کے لیے بھیانک کیوں گزرا؟

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو محض رنز، کیچز یا فتوحات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی محنت، دیانت داری اور قومی جذبے کی بدولت عوام کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ محمد رضوان بھی انہی ناموں میں شامل ہیں۔ مگر سال 2025 اس قومی ہیرو کے لیے ایک ایسا سال ثابت ہوا جسے وہ شاید کبھی بھُلا نہ سکیں۔

سال کے آغاز میں محمد رضوان کو پاکستان ٹی20 ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب رضوان نہ صرف ایک مستقل پرفارمر تھے بلکہ ان کی قیادت میں ٹیم نے کئی اہم فتوحات بھی حاصل کی تھیں۔ حیران کن طور پر کچھ ہی عرصے بعد انہیں ٹی20 اسکواڈ سے بھی ڈراپ کردیا گیا، جس نے شائقین کرکٹ کو شدید مایوسی میں مبتلا کردیا۔

مزید پڑھیں: بابراعظم اور محمد رضوان کے ون ڈے ریکارڈز پر کھلاڑیوں کا شاندار جشن، ویڈیو وائرل

بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ محمد رضوان سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی بھی واپس لے لی گئی، حالانکہ ان کے دورِ قیادت میں ٹیم نے نظم و ضبط، فٹنس اور ٹیم اسپرٹ میں واضح بہتری دکھائی تھی۔ اس فیصلے نے یہ سوال پیدا کر دیا کہ آخر مستقل مزاجی، کارکردگی اور دیانت داری کی قیمت کیا ہوتی ہے؟

مزید برآں، پاکستان سُپر لیگ میں بھی محمد رضوان کو بڑا دھچکا لگا جب انہیں ملتان سلطانز کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔ وہ کپتان جنہوں نے اس فرنچائز کو مسلسل فائنلز تک پہنچایا، جن کی قیادت میں ملتان سلطانز ایک مضبوط اور منظم ٹیم کے طور پر ابھری، اچانک فیصلوں کی زد میں آ گئے۔

According to former Pakistan Captain Rashid Latif said Rizwan was removed from captaincy because he spoke for people of palestine and brought religious practices in the team which hesson didnt liked.

#ShaheenAfridi #PakistanCricket #CricketTwitter pic.twitter.com/8CMCn2CIjN

— Mustafa (@mustafamasood0) October 20, 2025

کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تمام فیصلوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا یہ ایک ایسے کھلاڑی کے ساتھ انصاف ہے جس نے ہر فارمیٹ میں پاکستان کے لیے دل و جان سے کھیل کر کارکردگی دکھائی؟ جس نے کبھی ڈسپلن پر سمجھوتا نہیں کیا اور ہمیشہ ٹیم کو اپنی ذات پر ترجیح دی؟

مزید پڑھیں: ’میری کپتانی میں بھی شاہین آفریدی کپتان ہی تھے‘ محمد رضوان نے ایسا کیوں کہا؟

سب سے تشویشناک پہلو اس پورے معاملے پر چھائی خاموشی ہے۔ سابق کرکٹرز، تجزیہ کار اور وہ آوازیں جو عام طور پر ہر معاملے پر بولتی ہیں، آج حیران کن طور پر خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ کوئی مضبوط مؤقف سامنے نہیں آ رہا، کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ آخر محمد رضوان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

یہ تاثر بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ہم بطور قوم اکثر اداروں کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ ان کھلاڑیوں کے لیے آواز نہیں اٹھاتے جو اپنی محنت اور قربانیوں سے پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں۔ کیا سچ بولنا اور حق کا ساتھ دینا اتنا مشکل ہو گیا ہے؟

سوال اب یہ ہے کہ محمد رضوان کے حق میں آواز کون اٹھائے گا؟ کون یہ پوچھے گا کہ کارکردگی، کردار اور قربانی کے باوجود ایک قومی ہیرو کو بار بار کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کوئی اور محمد رضوان بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتا ہے۔

This was for our brothers and sisters in Gaza. ????????

Happy to contribute in the win. Credits to the whole team and especially Abdullah Shafique and Hassan Ali for making it easier.

Extremely grateful to the people of Hyderabad for the amazing hospitality and support throughout.

— Muhammad Rizwan (@iMRizwanPak) October 11, 2023

مزید پڑھیں: محمد رضوان کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ، نیا کپتان کون ہوگا؟

سال 2025 محمد رضوان کے لیے محض ایک برا سال نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے احتساب اور انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی سال 2025 محمد رضوان ملتان سلطانز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی سال 2025 محمد رضوان ملتان سلطانز محمد رضوان کے پاکستان کرکٹ سال 2025 کے لیے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟