پنچایت کے حیران کن فیصلے: دلچسپ پابندیاں عائد، نئی بحث چھڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع باغپت میں ایک پنچایت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عام طور پر دیہی پنچایتیں سماجی تنازعات کے حل یا مقامی مسائل تک محدود رہتی ہیں، تاہم باغپت میں منعقد ہونے والی اس بڑی پنچایت نے ایسے احکامات جاری کیے جنہیں سن کر وہاں موجود افراد بھی حیرت اور پریشانی کا شکار ہوگئے۔ ان فیصلوں کو بھارتی میڈیا نے غیر معمولی اور سخت قرار دیا ہے کیونکہ ان کا تعلق روزمرہ زندگی، نوجوانوں کے طرزِ استعمال اور شادی جیسی سماجی تقریبات سے ہے۔
اطلاعات کے مطابق چودھری برادری کی زیرِ نگرانی منعقد ہونے والی اس پنچایت میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکوں کو اسمارٹ فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پنچایت کے مطابق کم عمری میں موبائل فون کے زیادہ استعمال سے بچوں کی توجہ تعلیم اور سماجی ذمہ داریوں سے ہٹ رہی ہے، جسے روکنا ضروری سمجھا گیا۔ اسی کے ساتھ پنچایت نے نوجوان لڑکوں کے ہاف پینٹ یا شارٹس پہننے پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا، جسے مقامی روایات اور ثقافتی اقدار سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ پنچایت کے فیصلے صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ شادی بیاہ جیسی خوشی کی تقریبات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پنچایت میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اب شادی ہالز اور بینکوئٹ میں شادیاں منعقد نہیں کی جائیں گی۔ پنچایت کے مطابق شادیوں کو سادہ اور گھریلو ماحول میں منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ فضول اخراجات سے بچا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت ایک اور فیصلہ کرتے ہوئے شادی کے دعوتی کارڈ چھاپنے کے بجائے واٹس ایپ کے ذریعے دعوت قبول کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
شادی ہالز اور بینکوئٹ میں شادیوں پر پابندی کی وجہ بیان کرتے ہوئے پنچایت کے رہنماؤں نے ایک ایسا مؤقف اختیار کیا جس نے سب کو مزید حیران کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہالز میں ہونے والی شادیاں اکثر ناکام ہو جاتی ہیں اور بعد میں رشتے ٹوٹنے کی نوبت آ جاتی ہے، اس لیے گھروں میں سادہ طریقے سے شادی کرنے کو بہتر سمجھا گیا ہے۔
پنچایت کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلے معاشرتی اصلاح اور سماج کے مفاد میں کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں موجود رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان اقدامات کو صرف باغپت تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ پورے اترپردیش میں نافذ کرانے کی کوشش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے دیگر کھاپ پنچایتوں سے رابطہ کیا جائے گا اور ایک مہم کے ذریعے ان فیصلوں کی حمایت حاصل کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پنچایت کے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔