کراچی میں صنعتی علاقوں کی ترقی کیلیے 2.9 ارب روپے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کراچی:
سندھ کابینہ نے کراچی میں صنعتی علاقوں کی ترقی کے لیے 2.9 ارب روپے کی منظوری دے دی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام صنعتی علاقوں کی سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام کی مرمت کی جائے گی، سندھ حکومت صنعتی ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے کے دیگر انڈسٹریل اسٹیٹس کے لیے الگ پیکیج کا اعلان کرے گی، صوبے کے دیگر شہروں کی صنعتی اسٹیٹس کی ترقی کے لیے انڈسٹریز ڈپارٹمینٹ کام کر رہا ہے، جیسے ہی ترقیاتی منصوبہ تیار ہو جائے گا، پیکیج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 23 اضلاع میں عوامی کچہریاں منعقد کی گئی تھیں۔ عوامی کچہریوں میں امن و امان، پولیس، صحت کی سہولیات، بلدیاتی خدمات، واٹر سپلائی (پی ایچ ای)، سڑکوں، آبپاشی اور تعلیم سے متعلق شکایات موصول ہوئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی شکایات کا ازالہ کر کے اس کی رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے حکم دیا کہ جنوری کے دوسرے ہفتے سے دوبارہ عوامی کچہریاں شروع کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وارننگ دی کہ اگر ان شکایات کا ازالہ نہ ہوا تو متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔