2025 میں پاکستان کو عالمی سفارتی میدانوں میں بہت اہمیت ملی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی) 2025 پاکستان کےلئے انتہائی اہم سال تھا ، اس سال پاکستان کو دنیا بھر کے سفارتی میدانوں میں بہت اہمیت ملی، اس سال صدر مملکت آصف علی زرداری نے 5 غیر ملکی دورے کیے، وزیراعظم شہباز شریف نے 28 جبکہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے 43 غیر ملکی دورے کیے۔ سفارتی لحاظ سے یہ انتہائی اہم سال تھا جس میں پاکستان کو مشرق وسطیٰ امن عمل میں اہمیت ملی، دنیا کے مختلف ممالک نے پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی اور کاروباری تعلقات بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔26 مئی کو وزیراعظم شہباز شریف ایران، ترکیہ اور آذربائیجان کے دورے کیے جن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ تھے،ان دوروں کا مقصد پاک بھارت فوجی کشیدگی کے دوران ان ممالک کا شکریہ ادا کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق ستمبر کا مہینہ پاکستانی قیادت کے بیرون ملک دوروں کے اعتبار سے سب سے اہم رہا کیوں کیونکہ 17 ستمبر کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف کو سعودی فضاو ں میں پہنچنے کے بعد فضائی سلامی، توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر دیا گیا۔ ستمبر کے مہینے ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے شرکت کی جس کے بعد 26 ستمبر کو وزیراعظم اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، ا س ملاقات سے قبل جون میں صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاو س میں ظہرانے پر مدعو کیا تھا جس میں دونوں رہنماو ں نے دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے متعدد اہم عالمی فورمز میں شرکت کر کے پاکستان کا مو قف بین الاقوامی سطح پر پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے عالمی امن، مسئلہ کشمیر اور فلسطین سمیت اہم عالمی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر بیان کیا، جبکہ اسی موقع پر عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس، اقتصادی تعاون تنظیم سمٹ، سعودی عرب میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو فورم اور ترکمانستان میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی امن و غیر جانبداری فورم میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس، شنگھائی تعاون تنظیم کے وزارتی و سربراہی سیشنز، متحدہ عرب امارات میں سر بنی یاس فورم اور دیگر علاقائی و عالمی سفارتی اجلاسوں میں شرکت کی۔حکومتی ذرائع کے مطابق ان عالمی فورمز میں شرکت کا مقصد پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سفارتی مفادات کا تحفظ، عالمی برادری کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا اور خطے و دنیا میں امن و استحکام کےلئے پاکستان کا مو قف موثر انداز میں اجاگر کرنا تھا۔ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کےلئے چین کی سربراہی میں پہلے سہ فریقی مذاکرات 21 مئی کو چین کی میزبانی میں ہوئے، اس سے قبل اسی سال 19 اپریل کو نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کا دورہ کیا جو پاکستان کی کسی اہم حکومتی شخصیت کا ایک طویل عرصے کے بعد دورہ تھا۔20 اگست کو پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ایک بار پھر کابل میں ہوئے جس میں سی پیک ٹو کو افغانستان تک توسیع دینے کی بات کی گئی لیکن یہ عمل زیادہ پائیدار ثابت نہ ہوا جب اکتوبر میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی ہو گئی۔ 2025 اس لحاظ سے انتہائی اہم تھا کہ اقوام متحدہ سے لے کر ماسکو فارمیٹ اور ایران میں ہونے والی علاقائی ممالک کی کانفرنس میں سب جگہ پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا گیا اور افغانستان پر دہشت گردی پر قابو پانے پر زور دیا گیا۔22 اپریل کو نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ڈھاکہ کا تاریخی دورہ کیا، جس کے بعد 19 جون کو پاکستان بنگلہ دیش اور چین کے سہ فریقی مذاکرات ہوئے جس میں تینوں ممالک نے تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورے بنیادی طور پر اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور عالمی فورمز میں پاکستان کی نمائندگی پر مرکوز رہے۔سعودی عرب اور آذربائیجان وہ ممالک ہیں جہاں وہ چار چار بار گئے، سال کا آغاز متحدہ عرب امارات کے دورے سے ہوا اور اختتام آذربائیجان میں کاپ 29 کانفرنس پر ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف نے سال کا پہلا اہم دورہ یکم فروری 2025 کو متحدہ عرب امارات (دبئی) کا تھا، جہاں وہ ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شریک ہوئے جبکہ 19 تا 22 مارچ 2025 کو سعودی عرب (مدینہ، مکہ، جدہ) کا دورہ کیا۔وزیراعظم 10 تا 11 اپریل 2025 کو بیلاروس (منسک) گئے، اس کے بعد 12 اپریل کو برطانیہ اور 22 اپریل کو ترکیہ کا دورہ کیا، 25 تا 30 مئی 2025 کو ایک سے زیادہ ممالک کا دورہ کیا جن میں ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان شامل ہیں۔شہباز شریف نے 12 جون 2025 کو متحدہ عرب امارات (ابوظہبی) اور جون میں آذربائیجان (خانکندی) کا دورہ کیا، جہاں اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن سمٹ میں شرکت کی، اس کے علاوہ 30 اگست تا 4 ستمبر 2025 کو چین (تیانجن، بیجنگ) کا دورہ کیا، جہاں ایس سی او سمٹ اور ملٹری پریڈ میں شریک ہوئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے امریکا (نیویارک) کا دورہ کیا اور 25 ستمبر کو امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، 5 تا 7 اکتوبر 2025 کو وہ ملائیشیا گئے اور 13 اکتوبر کو مصر (شرم الشیخ) میں امن سمٹ میں شرکت کی۔وزیراعظم 7 تا 8 نومبر 2025 کو آذربائیجان میں وکٹری ڈے تقریبات میں شریک ہوئے، 9 نومبر کو وکٹری ڈے کے موقع پر تقریبات میں موجود رہے اور 11 نومبر کو آذربائیجان (باکو) میں کاپ 29 اجلاس میں شرکت کی۔رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے زیادہ تر دورے سفارتی نوعیت کے تھے، جن میں او آئی سی، ایس سی او اور دیگر عالمی فورمز شامل رہے۔سعودی عرب 7 بار، ترکیہ، آذربائیجان اور متحدہ عرب امارات 4،4 بار، امریکا، افغانستان اور چین 3،3 بار، ایران، ملائیشیا اور قطر 2،2 بار، اور دیگر ممالک ایک ایک بار ان کے دوروں میں شامل رہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں کئی عالمی رہنماو ں نے پاکستان کے دورے بھی کیے جن میں سب سے پہلا دورہ 12 سے 13 فروری تک ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا تھا، اس کے بعد 3 اگست کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کا دورہ کیا۔اکتوبر میں ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری ابراہیم پاکستان کے دورے پر آئے، اکتوبر ہی میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم پاکستان کے دورے پر آئے، جبکہ 15 نومبر کو ا ردن کے شاہ عبداللہ دوم نے پاکستان کا دورہ کیا۔دسمبر میں انڈونیشیا کے صدر ابووسو بیانتو پاکستان کے دورہ پر آئے اور تجارت، صحت، تعلیم، آئی ٹی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی، دسمبر میں ہی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا جس میں اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے تعاون تنظیم اقوام متحدہ عالمی فورمز میں شرکت کی کا دورہ کیا پاکستان کے پاکستان کا نے پاکستان اجلاس میں اپریل کو کے دورے کے بعد کے صدر
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں