گھی‘ آئل‘ باسمتی چاول کے نرخوں میں 25 سے 50 روپے کلو تک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور (کامرس رپورٹر) ملک میں گزشتہ 15سے 20 دنوں کے دوران درجہ اول اور دوم گھی اور کوکنگ آئل تیار کرنے والی کمپنیوں نے درجہ اول اور درجہ دوم گھی اور کوکنگ آئل کی فی کلو /فی لیٹر قیمتوں میں 30 روپے سے 50 روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ جس سے درجہ اول کا فی لیٹر کوکنگ اور فی کلو گھی کا پیکٹ 550 روپے سے بڑھ کر590 روپے پر پہنچ گیا ہے اور درجہ دوم کوکنگ آئل کا فی لیٹر پیکٹ450روپے سے بڑھ کر500 روپے تک جبکہ درجہ دوم کا فی کلوگھی کا پیکٹ 450 روپے سے بڑھ کر480روپے کا ہو گیا ہے۔ گھی ڈیلرز کے مطابق گھی اور کوکنگ آئل کی طلب اور رسد میں فرق بڑھنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ دوسری طرف اوپن مارکیٹ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایک کلو نئے باسمتی چاول کی قیمت میں 25 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی کلو چاول کی قیمت 300 روپے سے بڑھ کر 325 روپے ہو گئی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال ملک میں سیلاب کے باوجود چاول کی بہتر پیداوار ہوئی ہے اس کے علاوہ عالمی منڈی میں بھارت کے چاول کی آمد کے بعد اس سال گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستانی چاول کی ایکسپورٹ کم ہونے کے اندازے کے باوجود چاول کی قیمتوں میں اضافہ کو ماہرین چاول کی ذخیرہ اندوزی قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔