شاہین شاہ بگ بیش لیگ میں انجری کے بعد وطن واپس، پی سی بی کا ری ہیب پروگرام
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی انجری کا شکار ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، شاہین کو گھٹنے کی چوٹ لگی ہے، جس کی تصدیق برسبین ہیٹ نے بھی کر دی ہے۔ ٹیم نے ایڈیلیڈ سے واپسی پر ان کا دوبارہ معائنہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اسٹار پیسر کی فٹنس کے حوالے سے کسی قسم کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ شاہین بدھ کو وطن واپس پہنچ جائیں۔
پی سی بی نے شاہین کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ری ہیب پروگرام ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ جلد مکمل فٹنس حاصل کر سکیں اور عالمی مقابلوں کے لیے تیار ہو جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔