وزیراعظم بھارتی آبی جارحیت کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں اٹھائیں: پیپلزپارٹی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور+ اسلام آباد (نامہ نگار+ این این آئی) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے دریائے چناب پر بھارت کے متنازعہ بجلی منصوبہ منظور کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آبی جارحیت کے ذریعے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ جنگی اور سفارتی میدان کے بعد مودی حکومت کو آبی میدان میں بھی شکست دےںگے۔ راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف متنازعہ بھارتی منصوبے کا معاملہ فوری عالمی عدالت انصاف میں اٹھائیں۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارت کا دریائے چناب پر نیا منصوبہ آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے، بھارت یکطرفہ اقدامات سے باز آ جائے ورنہ ہزیمت اٹھائے گا۔ ایک بیان میںشیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کے خلاف ہے، چناب پر بھارتی منصوبے سے پاکستان کی آبی، زرعی اور ماحولیاتی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے۔ پانی پاکستان کی ریڈلائن ہے جس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔