بھارت نے دریائے چناب پر نئے ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے دریائے چناب پر نئے ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی، بھارت کا فیصلہ پاکستان کے پانی کے طے شدہ حقوق پر براہ راست حملہ قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے ایک مرتبہ پھر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی
کرتے ہوئے دریائے چناب پر پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلہستی اسٹیج ٹو پن بجلی منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے پانی پر طے شدہ حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے پاکستان کی آبی سلامتی کے ساتھ ساتھ زرعی نظام اور ماحولیاتی توازن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دلہستی منصوبہ دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے بھی پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو علاقائی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاو¿ میں اچانک اور غیر معمولی کمی بھارتی آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی مرضی پر نہیں بلکہ عالمی ضمانتوں کے تحت طے شدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اگر بھارت باز نہ آیا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو عالمی فورمز پر مو¿ثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی دریائے چناب انہوں نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔