امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یوم ولادت 3جنوری کو منایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ٹھٹھہ صادق آباد(این این آئی) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یوم ولادت13رجب المرجب بمطابق 3جنوری کو عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کےساتھ منایا جائےگا۔ ملک بھر کی مساجد، امام بارگاہوں،مختلف مقامات پر خصوصی محافل و تقاریب کا اہتمام کیا جائےگا۔ جن میں علما و خطیب حضرات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے دین ا سلام کی آبیاری کے لیے پیش کی گئی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے،جہانیاں میں امام بارگاہ حسینیہ میں جشن ولادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سلسلے میں جشن منایا جائے گا، سرکاری و نجی ٹی وی چینلز سے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔ حضرت علیؓ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ حضرت علیؓ خلیفہ چہارم بھی تھے آپ کو 19 رمضان40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا، 3 دن جانکنی کی حالت میں رہنے کے بعد 21 رمضان کو آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کا روضہ مبارک عراق کے شہرنجف میں مرجع الخلائق ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ / یوم ولادت
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔