میرواعظ کشمیر کو سوشل میڈیا کے ترازو میں تولنا فکری بددیانتی ہے، آغا سید حسن موسوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ میرواعظ کشمیر ایک صدیوں پر محیط دینی، روحانی، تہذیبی اور اجتماعی ادارے کے نگہبان ہیں، جو کشمیری عوام کے ایمان، تشخص اور اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر مولانا آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری سطحی، بدنیتی پر مبنی اور خطرناک مہم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک عظیم دینی و سماجی ادارے کے امین کو محض سوشل میڈیا کے بیانیے، ٹوئٹر بایو یا وقتی سیاسی پروپیگنڈے میں قید کرنا فکری دیوالیہ پن اور تاریخی نادانی کی بدترین مثال ہے۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ میرواعظ کشمیر ایک صدیوں پر محیط دینی، روحانی، تہذیبی اور اجتماعی ادارے کے نگہبان ہیں، جو کشمیری عوام کے ایمان، تشخص اور اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ سید حسن موسوی نے کہا کہ ان کی حیثیت کو سوشل میڈیا کی سطحی بحثوں اور زہریلے تبصروں کے ذریعے کم تر ثابت کرنے کی کوششیں دراصل خود حملہ آوروں کی فکری پستی کو عیاں کرتی ہیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میرواعظ عمر فاروق کی سیاسی و سماجی زندگی کا مرکزی محور ہمیشہ امن، اتحاد، مفاہمت اور وقار رہا ہے، نہ کہ اقتدار، ذاتی مفاد یا وقتی شہرت وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے طاقت کے بجائے اصول، نفرت کے بجائے تحمل اور انتشار کے بجائے مکالمے کو اپنا راستہ بنایا، جو آج کے شور زدہ ماحول میں ایک نایاب اخلاقی مثال ہے۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ میرواعظ عمر فاروق نے نہایت کم عمری میں وہ ذمہ داریاں اٹھائیں جن کا تصور بھی آج کے بہت سے نام نہاد ناقدین نہیں کر سکتے۔ ایک کے بعد ایک عظیم قربانی والد اور پھر چچا کی شہادت کے باوجود انہوں نے انتقام یا اشتعال کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ کشمیری قوم کے وقار، خودداری اور اخلاقی قوت کی علامت بنے رہے۔ انہون نے کہا کہ یہ قربانیاں محض تاریخ کا باب نہیں بلکہ ایک زندہ گواہی ہیں جسے سوشل میڈیا کی زہر آلود مہم مٹا نہیں سکتی۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے، مگر کردار کشی، تمسخر، بہتان اور نفرت انگیز زبان نہ اختلاف ہے اور نہ تنقید، بلکہ یہ سماج کو اخلاقی پستی اور فکری انارکی کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے رویے کشمیری سماج کی روایت، دینی وقار اور اجتماعی دانش کے منافی ہیں۔ انہوں نے علماء، سیاسی قائدین، اہل قلم، صحافیوں اور خصوصاً سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری، سنجیدگی اور شعور کا مظاہرہ کریں اور ایسے عناصر کو مسترد کریں جو ذاتی ایجنڈوں کے لئے دینی و قومی شخصیات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آخر میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ میرواعظ کشمیر کے وقار پر حملہ دراصل کشمیری سماج کے اتحاد، دینی تشخص اور اجتماعی ضمیر پر حملہ ہے اور انجمن شرعی شیعیان ہر اس آواز کے ساتھ کھڑی ہے جو امن، احترام اور خودداری کی علمبردار ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ میرواعظ میرواعظ کشمیر اور اجتماعی سوشل میڈیا انہوں نے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔