عدالتی تاریخ میں اہم دن رقم، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے وکلا اور سائلین کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا، عدالتی تاریخ میں ایک اہم دن رقم، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح تک بھی تاریخی اقدامات کر رہی ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا جس کے تحت اب سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے عدالتی فیسوں اور جرمانوں کی ادائیگی مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دی گئی، جس سے فراڈ کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔
لاہور کے فضائی معیار میں نمایاں بہتری،متعلقہ ادارے فیلڈ میں مسلسل متحرک ہیں:سینئر وزیر مریم اورنگزیب
عدالتی واجبات کی ادائیگی اب براہِ راست نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ہوگی جبکہ چالان فارم ڈیجیٹل سسٹمز کے تحت 32-A کا اجراء خودکار طریقے سے PSID کے ذریعے ہوگا، تمام جوڈیشل افسران کو مخصوص رسائی دی گئی ہے، تمام مالیاتی آرڈرز آن لائن ہوں گے اور نیشنل بینک کے ساتھ منسلک نظام فوری تصدیق کو ممکن بناتا ہے۔
عدالتی جرمانوں کا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا، مستقبل میں اس سسٹم کو اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے ساتھ لنک کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، نئے متعارف شدہ جوڈیشل ڈپازٹس اور سیکیورٹیز سافٹ ویئر کے ذریعے بینکوں میں جمع عدالتی رقوم اور سیکیورٹیز کی نگرانی ہوگی، ہر عدالتی برانچ اپنے اکاؤنٹس کا الگ ریکارڈ رکھ سکے گی جبکہ مجموعی ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا، جس سے غلطیوں کے امکانات ختم ہوں گے اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔
5 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنیوالے شہید میجر عدیل ملک و قوم کا فخر ہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
بینکنگ اینڈ فنڈز مینجمنٹ ونگ اب اکاؤنٹس کی مؤثر نگرانی کر سکے گا، جدید انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے عدالتی سٹورز اور سٹاک کی نگرانی بھی ڈیجیٹل ہوگئی ہے، سامان کی وصولی سے لے کر دفاتر تک فراہمی کے تمام مراحل اب خودکار ہیں اور میعاد ختم ہونے سے پہلے سسٹم خودکار الرٹس جاری کرے گا، اس سے قیمتی سرکاری سامان کے ضائع ہونے سے بچاؤ ممکن ہوگا اور ناکارہ یا خراب سامان کی واپسی کا مکمل ریکارڈ بھی برقرار رہے گا۔
منصوبے کے تحت سٹاک مینجمنٹ کے SOPs پر عملدرآمد بھی 100 فیصد یقینی بنایا گیا ہے، یہ تاریخی اقدامات نہ صرف عدالتی نظام میں شفافیت اور مؤثریت کو فروغ دیں گے بلکہ عدالتی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں گے، جس سے لاہور ہائیکورٹ کے جدید انتظامی نظام میں ایک اہم سنگ میل طے ہوگیا ہے۔
”ایک سال ،کئی ریکارڈ“ چیف منسٹر ٹریکٹر پروگرام کے تحت 10ہزار ٹریکٹر ز کاشتکاروں کو مل گئے،سکیم کا تیسرا فیز جنوری میں شروع ہوگا
وکلاء تنظیموں نے اس پراجیکٹ پر چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
سینئر قانون دان احسن بھون نے کہا ہے کہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے جوڈیشل سسٹم کی بہتری کیلئے جو اقدامات کئے یہ تاریخ میں کوئی نہیں کر سکا، سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی ہو یا انتظامی سطح پر اصلاحات کا معاملہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے مثبت اقدامات سے جوڈیشل سسٹم پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
قانونی ماہر شیبا قیصر کا کہنا ہے کہ عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت تھی، چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے بڑے پیمانے پر نہ صرف اصلاحات کیں بلکہ ان کا نفاذ بھی کیا جس سے انصاف کی بروقت فراہمی کے نظام میں بڑی پیشرفت ہوئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار افسوس
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیف جسٹس مس عالیہ نیلم جسٹس مس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ چیف جسٹس لاہور ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے کے تحت کر دیا
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔