کنگ سلمان ریلیف کا معاشی بااختیاری منصوبہ، مستحق گھرانوں میں مرغیوں کی تقسیم کا دوسرا مرحلہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے پاکستان میں ’مویشیوں کی فراہمی کے ذریعے کمزور گھرانوں کی معاشی بااختیاری کے منصوبے‘ کے دوسرے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا معاشی بااختیاری منصوبہ: پہلے مرحلے میں 1,000 گھرانوں کو مویشی فراہم
اس مکمل شدہ مرحلے کے تحت خیبرپختونخوا کے 4 اضلاع سوات، صوابی، ہری پور اور مانسہرہ میں ایک ہزار مستحق گھرانوں کو پولٹری پر مبنی روزگار کے جامع پیکیجز فراہم کیے گئے۔
ہر مستفید ہونے والے خاندان کو 25 مرغیاں جبکہ اس کے ساتھ ایک مکمل پولٹری کٹ بھی دی گئی جس میں 50 کلوگرام فیڈ، فیڈرز کے دو سیٹ، ایک واٹر ڈرنکر، انڈے رکھنے کی ٹرے اور حفاظتی جالی شامل تھی۔
مزید برآں محکمہ لائیو اسٹاک کے تعاون سے پولٹری مینجمنٹ اور آمدن کے مواقع سے متعلق 40 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے، جن کا مقصد مستحق افراد کو پائیدار اور چھوٹے پیمانے پر پولٹری کاروبار کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرنا تھا۔
یہ منصوبہ پیس اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ذریعے ریلیف، محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبرپختونخوا، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے نافذ کیا گیا۔
اس اقدام کا مقصد چاروں اضلاع میں کمزور گھرانوں کی معاشی مضبوطی، غذائی تحفظ اور گھریلو غذائیت کو بہتر بنانا تھا۔
مزید پڑھیں: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے زیراہتمام کھجوروں کی تقسیم کا باضابطہ آغاز
اس مرحلے کی کامیاب تکمیل کے ساتھ یہ منصوبہ خود انحصاری، باعزت روزگار کے مواقع، بہتر غذائیت اور طویل المدتی معاشی استحکام کے فروغ میں مؤثر ثابت ہوا ہے، جو پاکستان بھر میں کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سعودی عرب کنگ سلمان ریلیف سینٹر مرغیاں تقسیم معاشی بااختیاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کنگ سلمان ریلیف سینٹر مرغیاں تقسیم معاشی بااختیاری وی نیوز کنگ سلمان ریلیف سینٹر معاشی بااختیاری
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں