این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار، یاسمین راشد کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو درست قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست مسترد کر دی۔
درخواست پر سماعت کے بعد الیکشن ٹربیونل کے جج رانا زاہد محمود نے فیصلہ سنایا، جس کے تحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن خارج کر دی گئی۔
سماعت کے دوران نواز شریف کی نمائندگی بیرسٹر اسداللہ چٹھہ نے کی اور عدالت میں دلائل پیش کیے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے 2024 کے عام انتخابات میں این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون کے برخلاف کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الیکشن ٹریبونل این اے 130 کامیابی درست قرار نواز شریف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن ٹریبونل این اے 130 کامیابی درست قرار نواز شریف وی نیوز نواز شریف کی یاسمین راشد
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔