سپریم کورٹ: مقدمات ٹرانسفر کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے سیشن ججز کے اختیار کے تحت مقدمات ٹرانسفر کرنے سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ قانون کا جائزہ درست طور پر نہیں لیا اور قانون کو مدنظر رکھے بغیر ہی سیشن جج کا حکم معطل کردیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ایسے حکم کا کیسے دفاع کریں گے؟، سرکاری وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق سیشن جج ایک مجسٹریٹ سے دوسرے مجسٹریٹ کو کیس منتقل کرسکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیشن ججز سے مقدمات منتقلی کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس ہے، یہ تو قانون کی الف ب ہے جو جج کو معلوم نہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ یہ جج تو لاہور ہائیکورٹ کی رجسٹرار بھی رہ چکی ہیں۔ وکیل سیدہ کنول نے کہا کہ سیشن جج نے اپنے اختیار کے مطابق ہی مقدمہ منتقل کیا جبکہ وکیل مشتاق موہال نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم قانون کے مطابق نہیں۔
واضح رہے کہ سیشن جج قصور نے ملزمان کی درخواست پر مقدمہ منتقل کیا تھا، سیشن جج کے حکم کے خلاف مدعی مقدمہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، ہائیکورٹ نے سیشن جج کے حکم کو ختم کرتے ہوئے مقدمہ واپس بھجوانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل لاہور ہائیکورٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ کے مطابق کورٹ نے کا حکم
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔