پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 سال کے طویل وقفے کے بعد مارچ 2026 سے لندن کے لیے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ کے لیے پروازیں بحال ہونے کے بعد پی آئی اے کی پہلی پرواز پیرس پہنچ گئی

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق قومی ایئرلائن برطانیہ کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کر رہی ہے اور 29 مارچ 2026 سے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار 4 پروازیں چلائی جائیں گی۔ یہ پروازیں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 سے آپریٹ کی جائیں گی۔

ترجمان نے بتایا کہ لندن پی آئی اے کا پہلا بین الاقوامی روٹ رہا ہے اور یہ آج بھی ایئرلائن کے اہم ترین بین الاقوامی روٹس میں شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے اس وقت مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار 3 پروازیں پہلے ہی آپریٹ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ جون 2020 میں لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے طیارے کے حادثے کے بعد یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے حفاظتی خدشات کے باعث پی آئی اے پر یورپی ممالک میں پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بعد ازاں اس وقت کے وزیر ہوا بازی کے بیان کے بعد پابندی مزید سخت کر دی گئی تھی۔

مزید پڑھیے: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری: پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر عائد پابندی ختم

یورپی ایوی ایشن ادارے نے 4 سال سے زائد عرصے بعد 28 نومبر 2024 کو پی آئی اے پر عائد پابندی ختم کر دی۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا جس کے نتیجے میں پاکستانی ایئرلائنز کو برطانیہ میں پروازوں کی اجازت کے لیے درخواست دینے کی راہ ہموار ہوئی۔

ستمبر 2025 میں پی آئی اے کو برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں بحال کرنے کی منظوری ملی جس کے بعد پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں۔ اس وقت پی آئی اے نے برمنگھم اور لندن کے لیے بھی پروازیں شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: یورپ کے لیے پروازیں، پی آئی اے کا کڑا امتحان

پی آئی اے کی جانب سے لندن کے لیے پروازوں کی بحالی کو قومی ایئرلائن کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی آئی اے پی آئی اے براہ راست لندن پی آئی اے لندن پرواز لندن ڈائریکٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے پی ا ئی اے براہ راست لندن پی ا ئی اے لندن پرواز لندن ڈائریکٹ لندن کے لیے براہ راست پی ا ئی اے پی آئی اے ئی اے کی کے بعد

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت