لاہور میں بسنت 2026 کی مشروط اجازت، ممنوعہ ڈور کے استعمال اور بیچنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں پتنگ بازی کو سخت حفاظتی ضوابط کے تحت محدود اجازت دے دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت 2026 کے انعقاد کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق شہر میں پتنگ بازی صرف 6، 7 اور 8 فروری کو کی جا سکے گی، جبکہ پتنگ بازی کے سامان کی فروخت کے لیے یکم سے 8 فروری 2026 تک کی اجازت ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس اور ضلعی افسران کو ممنوعہ ڈور کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا ہے۔ چرخیاں بنانے اور فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ ڈور صرف پنے کی شکل میں استعمال کی جا سکے گی۔ نائلون، پلاسٹک یا دھاتی تار کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ممنوعہ ڈور کے استعمال سے روکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون پر عمل کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔