لاہور میں بسنت 2026 کی مشروط اجازت، ممنوعہ ڈور کے استعمال اور بیچنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں پتنگ بازی کو سخت حفاظتی ضوابط کے تحت محدود اجازت دے دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت 2026 کے انعقاد کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق شہر میں پتنگ بازی صرف 6، 7 اور 8 فروری کو کی جا سکے گی، جبکہ پتنگ بازی کے سامان کی فروخت کے لیے یکم سے 8 فروری 2026 تک کی اجازت ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس اور ضلعی افسران کو ممنوعہ ڈور کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا ہے۔ چرخیاں بنانے اور فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ ڈور صرف پنے کی شکل میں استعمال کی جا سکے گی۔ نائلون، پلاسٹک یا دھاتی تار کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ممنوعہ ڈور کے استعمال سے روکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون پر عمل کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔