data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی:چیئرمین تحریک انصاف  ( پی ٹی آئی ) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وہ ہر منگل اڈیالہ جیل آتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

 اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی بھیک مانگنی پڑ رہی ہے، 2025 گزر گیا لیکن حالات اب تک نہیں بدلے، تحریک اپنی جگہ موجود ہے لیکن مذاکرات بھی ہونے چاہئیں،  حالات جیسے تقاضے کر رہے ہیں ویسے مذاکرات نہیں ہو رہے، جس سے مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ صاحبِ اقتدار سے درخواست کرتے ہیں کہ حالات کی سنگینی کو سمجھیں، دل بڑا کریں اور اس ملک کے بچوں پر رحم کریں،  ہمارے لیے پورا سسٹم رک چکا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمیں روزانہ یہاں آ کر کھڑا نہ ہونا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات اور ایس او پیز موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے جس سے حالات بہتر ہو سکیں،  مسائل کا حل ضد اور رکاوٹوں میں نہیں بلکہ بات چیت میں ہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اسی سال بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دو سزائیں سنائی گئیں،  2025 میں دشمن کے ساتھ تو سیز فائر ہو گیا لیکن افسوس کہ ہمارے اندرونی مسائل اور تناؤ ختم نہیں ہو سکے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اب ہم 2026 میں داخل ہو رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ سال بھی سزاؤں کا سال ثابت ہوگا،  اگر حالات نہ بدلے گئے تو اس کا نقصان صرف ایک جماعت نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوگا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود