صاحب اقتدار دل بڑا کریں، حالات بدلنے کیلیے ملاقات کی بھیک مانگتا ہوں، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
راولپنڈی:
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہر منگل یہاں آتا ہوں لیکن افسوس کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی بھیک مانگتا ہوں، 2025 گزر گیا اب تو حالات بدلنے چاہئیں۔
راولپنڈی اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک اپنی جکہ لیکن مذاکرات بھی ہونے چاہئیں، حالات جیسے تقاضے کر رہے ہیں مذکرات ویسے نہیں ہو رہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صاحب اقتدار سے درخواست کرتا ہوں کہ حالات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دل بڑا کریں، اس ملک کے قوم کے بچوں پر رحم کریں۔
مزید پڑھیںایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی
الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار
انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے سسٹم رک گیا ہے، نہ رکتا تو روز یہاں کھڑے نہ ہوتے، عدالتی آرڈر ایس او پیز کے تحت جاری ہیں، طریقہ نکالیں جس سے حالات بہتر ہوں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس سال دو سزائیں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ہوئیں، سال 2025 میں دشمن کے ساتھ سیز فائر ہوا لیکن ہمارا آپس کا تناؤ ختم نہیں ہوا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ 2026 میں داخل ہو رہے ہیں اور لگتا ہے یہ سال بھی سزاؤں کا سال ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔