ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی، وکلا اور طلبہ کی ملاقات ،پسماندہ علاقوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی، وکلا اور طلبہ کی ملاقات ،پسماندہ علاقوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:)سب نیوز
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سینیٹر سیدال خان سے ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، قبائلی سرداروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، وکلا، طلبہ اور مشاہیرین نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے ملک کے پسماندہ علاقوں بالخصوص صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ کے دیہی علاقوں اور جنوبی پنجاب کے دیہاتوں میں عوام کو درپیش سنگین مسائل سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
وفود نے زراعت، مائنز و منرلز کے شعبے میں درپیش مشکلات، مواصلاتی نظام کی ابتر صورتحال، شدید سردی والے علاقوں میں گیس کی عدم فراہمی اور بجلی کے بحران جیسے مسائل کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ ان مسائل کے باعث عوام کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جن کے فوری اور پائیدار حل کی اشد ضرورت ہے۔
ملاقات کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی زور دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے جبکہ اس ضمن میں درپیش رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ وفود نے صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات، صنعتوں کے قیام اور مصنوعات کی فروخت کے فروغ کو روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان نے کہا کہ موجودہ حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر کی ترقی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اور صوبہ بلوچستان کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور دیگر پسماندہ علاقوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت کی واضح پالیسی اور مضبوط سیکیورٹی حکمتِ عملی موجود ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بہتر سیکیورٹی صورتحال نہ صرف عوام کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی وسائل اور معدنیات کے شفاف اور مؤثر استعمال کے ذریعے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
گیس کی فراہمی کے حوالے سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ حالیہ دنوں بلوچستان میں گیس کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے منیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو پارلیمنٹ ہاؤس طلب کیا گیا تھا اور انہیں واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں سمیت شدید سردی والے علاقوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس سپلائی میں بہتری کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ متعلقہ علاقوں کا دورہ کر کے عوامی شکایات کے ازالے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان نے قبائلی عمائدین، نوجوانوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور اپنی صلاحیتوں کو ملکی مفاد میں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اتحادیوں کے ساتھ مل کر خواتین کو ہنر مند بنانے، باعزت روزگار فراہم کرنے اور ان کی معاشی خودمختاری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ خواتین کو روزگار کے مواقع میسر آنے سے نہ صرف گھریلو مشکلات میں کمی آتی ہے بلکہ معاشی استحکام بھی ممکن ہوتا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار افسوس وزیراعظم کا بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار افسوس بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا انتقال کر گئیں میجر عدیل زمان شہید کی نماز جنازہ پشاور گیریژن میں ادا کر دی گئی،فیلڈ مارشل ،وزیر داخلہ و دیگر کی شرکت سرکاری ملازمین پر سیاسی اجتماعات اور سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہمارا ملک امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے: ایرانی صدر توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشری بی بی نے سزا کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائرکردیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ قبائلی عمائدین پسماندہ علاقوں
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔