چیئرمین سینیٹ سے امریکی سیاسی قونصلر کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-08-7
اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے امریکا کی سیاسی قونصلر شیلی ساکسن نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور پارلیمانی تعاون کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔ ملاقات میں عوامی سطح پر روابط، ثقافتی تعلقات اور تعلیمی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ امریکی سیاسی قونصلر محترمہ شیلی ساکسن نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا اور سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں امریکہ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ باہمی شراکت داری اور مشترکہ مفادات کے جذبے کے تحت قریبی رابطے میں رہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کریں گے۔
اسلام آباد:امریکی پولیٹیکل قونصلر شیلی ساکسن چیئرمین سینیٹ سیدیوسف رضا گیلانی سے ملاقات کررہی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔