سندھ میں سولر انرجی پروجیکٹ میں اربوں کی بےقاعدگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور میں سندھ میں 27 ارب کے سولر انرجی پروجیکٹ میں اربوں کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ این جی اوز کی سلیکشن بغیر ٹینڈر کے کچھ لوگوں میں بندر بانٹ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 21 ہزار روپے میں ملنے والا پینل 60 ہزار میں لیا گیا، اپنی مرضی کے لوگوں کو نوازنے کےلیے پورا پلان بنایا گیا۔
اجلاس کے دوران پلاننگ ڈویژن سندھ کے حکام نے بریفنگ دی اور بتایا کہ سولر پروجیکٹ میں اربوں روپےکی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ پروجیکٹ کی 2 مرتبہ انکوائریاں کی گئی ہیں، پروجیکٹ کے تحت غریب لوگوں کو سولر پینل ملنا تھے۔
حکام کے مطابق یہ پروجیکٹ این جی اوز کے تحت دیا گیا تھا، اس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہر لیول پر پائی گئی ہیں۔
قائمہ کمیٹی سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں تمام ریکارڈ کے ہمراہ سیکریٹری کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔