آج رات سے 2 جنوری تک گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
این ڈی ایم اے کے مطابق ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، سکردو، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، پونچھ اور حویلی میں 30 دسمبر کی رات سے 2 جنوری کی صبح تک برفباری کے باعث سڑکوں کی بندش اور پھسلن کا خدشہ ہے اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آج رات سے 2 جنوری تک بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری موسمی ایڈوائزری کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ 29 دسمبر 2025ء کی رات سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے اور 30 دسمبر 2025ء سے اس میں شدت آ سکتی ہے۔ یہ موسمی نظام 31 دسمبر کو ملک کے بیشتر بالائی اور وسطی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور بالائی علاقوں میں 2 جنوری 2026ء کی صبح تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس موسمی نظام کے زیرِ اثر ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، سکردو، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، پونچھ اور حویلی میں 30 دسمبر کی رات سے 2 جنوری کی صبح تک برفباری کے باعث سڑکوں کی بندش اور پھسلن کا خدشہ ہے، اسی دوران بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا بھی امکان ہے۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں اور حساس و بلند پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رات سے 2 جنوری علاقوں میں ملک کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔