متحدہ عرب امارات کیخلاف سعودی دھمکی رنگ لے آئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ متفقہ رسمی دائرہ کار کے تحت طے شدہ اہداف مکمل کرنے کے بعد، یمن میں ہماری فوجی موجودگی 2019ء میں ختم ہو گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اماراتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ متفقہ رسمی دائرہ کار کے تحت طے شدہ اہداف مکمل کرنے کے بعد، یمن میں ہماری فوجی موجودگی 2019ء میں ختم ہو گئی تھی۔ اس وقت یمن میں ہمارا صرف انسداد دہشت گردی یونٹ باقی ہے۔ دہشت گردی كے خلاف موثر نتائج كے بعد، موجودہ حالات كے پیش نظر، ہم اپنے اتحادیوں سے مشورہ کر كے جب چاہیں اس یونٹ كو واپس بلا لیں۔ ہمارا یہ قدم موجودہ صورت حال كے جامع جائزے کے مطابق ہو گا۔ تاکہ علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے لئے یو اے ای کا کردار اور ذمے داریاں ہم آہنگ ہوں۔ واضح رہے کہ یمن میں ابوظبی اور ریاض کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ اسی سلسلے میں آج صبح سعودی عرب نے ایک غیر معمولی بیان میں امارات پر جنوبی یمن میں علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای ہماری قومی سلامتی کے خلاف خطرناک اقدامات کر رہا ہے۔ جس پر ردعمل دیتے ہوئے اماراتی وزارت خارجہ نے اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا یہ بیان بنیادی مغالطوں پر مشتمل ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ریاض نے زمینی حقائق کو درست طور پر نہیں سمجھا۔ یاد رہے کہ ریاض نے مذکورہ بیان جنوبی یمن پر فضائی حملوں کے بعد جاری کیا۔ سعودی عرب نے ایک فضائی حملے میں یمن کی المکلا بندرگاہ پر موجود فوجی سامان کو نشانہ بنایا۔ یہ سامان اماراتی نواز "جنوبی عبوری کونسل" سے متعلق تھا۔ تاہم ابوظبی نے ان حملوں کے جواب میں کہا کہ متحدہ عرب امارات، یمن میں اشتعال انگیزی سے متعلق تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ ابوظبی نے مزید وضاحت کی کہ حال ہی میں جنوبی یمن کی المکلا بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والا سامان، کسی بھی قسم کے ہتھیاروں پر مشتمل نہیں تھا، بلکہ اس میں صرف اماراتی افواج کی گاڑیاں شامل تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔