30 سال سے زائد عمر کے وہ پاکستانی اسٹارز جو اب بھی سنگل ہیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
رواں سال متعدد پاکستانی فنکار رشتہ ازدواج میں منسلک ہوچکے ہیں تاہم اب بھی ایسے کئی اسٹارز موجود ہیں جو 30 سال کے ہونے کے باوجود کنوارے ہیں۔
شوبز سے وابستہ شخصیات یا ان کی بچوں کی شادی کی بات کریں تو پاکستان کے نامور گلوکار راحت فتح علی خان کی بیٹی ماہین خان کی شادی رواں سال کی آخری شادی ہوگی جب کہ نئے سال میں بھی متعدد فنکار یا ان کے بچے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گے۔
سوشل میڈیا صارفین ہر سال ہونے والی سیلیبریٹیز کی شادیوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر یا ویڈیوز پر اپنا ردعمل بھی ظاہر کرتے ہیں۔
تاہم کسی بھی فنکار کا شادی کرنا یا اکیلے زندگی گزارنا مکمل طور پر ان کا ذاتی فیصلہ ہے لیکن ہمارے معاشرے میں 30 سال تک شادی نہ کرنے والی شخصیات سے متعلق ہر کوئی یہ سوال کرتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اب تک کیوں سنگل ہے۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بھی ایسے متعدد اسٹارز موجود ہیں جو 30 سال کے ہونے کے باوجود اب تک سنگل ہیں اور مداح بے چینی سے ان کی شادی کا انتظار کررہے ہیں۔
مہوش حیات
مہوش حیات نے بطور چائلڈ اسٹار اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور انہوں نے ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ جیسی سپر ہٹ فلم سمیت متعدد کامیاب پراجیکٹس میں کام کیا اور ان کی متعدد فلمیں باکس آفس پر اچھا بزنس کرنے میں کامیاب رہیں۔
تاہم، اداکارہ نے اب تک شادی نہیں کی اور وہ یہ واضح کرچکی ہیں کہ تب تک ’شادی نہیں کروں گی جب تک کوئی ایسا ساتھی نہ مل جائے جو ان کا اور ان کے کام کا احترام کرے‘۔
صبا قمر
صبا قمر نے بالی ووڈ میں بھی مرحوم اداکار عرفان خان کے ہمراہ ’ہندی میڈیم‘ جیسی ہٹ فلم دے چکی ہیں جب کہ پاکستان میں بھی وہ متعدد کامیاب ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھاچکی ہیں۔
اداکارہ نے اشارہ دیا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کی محبت مل چکی ہے، مگر انہوں نے کبھی اس بارے میں زیادہ بات نہیں کی اور وہ اب تک سنگل ہیں۔
مایا علی
مایا علی ایک خوبصورت پاکستانی اسٹار ہیں جو اب بھی سنگل ہیں، انہوں نے ڈراموں اور فلموں دونوں میں شاندار کام کیا ہے۔ وہ ایک کامیاب برانڈ کی مالک بھی ہیں۔
بلال اشرف
بلال اشرف کو پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا سلمان خان کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ بھی اب تک کنوارے ہیں، ماضی میں ان کا نام متعدد اداکاراؤں کے ساتھ جوڑا گیا ہے تاہم اب انہوں نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یمنیٰ زیدی
یمنیٰ زیدی نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی اداکاری ہے کیوں کہ وہ کردار سے پراجیکٹ میں جان ڈال دیتی ہیں، انہوں نے بھی اب تک شادی نہیں کی اور وہ اس وقت اپنے کریئر کے عروج پر ہیں جس پر وہ توجہ دینا چاہتی ہیں۔
بلال عباس خان
بلال عباس خان کی اداکاری کو بھی مداح بے حد پسند کرتے ہیں، خاص طور پر ان کے سپر ہٹ ڈرامہ ’عشق مرشد‘ میں شاہ میر سکندر کے کردار کے بعد وہ دلوں کی دھڑکن بن گئے ہیں۔
حالانکہ اس ڈرامے کے بعد ان کے حوالے سے بہت قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ بہت جلد اپنی آن اسکرین بیوی در فشاں سے شادی کرنے والے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضاطہ اعلان نہیں ہوا۔
عدیل حسین
عدیل حسین بھی اُن پاکستانی ستاروں میں شامل ہیں جو اب تک سنگل ہیں، ان کے کئی دوست، جن میں ماہرہ خان اور شہریار منور شامل ہیں، شادی کرچکے ہیں۔ عدیل حسین کا ماننا ہے کہ وہ اسی وقت شادی کریں گے جب انہیں یہ درست لگے گا۔
عمران عباس
عمران عباس ایک اور پاکستانی سپر اسٹار ہیں جن کی شادی کے لیے مداح بے تاب ہیں، وہ محبت کے تصور کے حوالے سے کھلے دل کے حامل ہیں، اور ان کے مداح انہیں جلد کسی خاص کے ساتھ خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔
عثمان خالد بٹ
عثمان خالد بٹ کو بھی متعدد پراجیکٹس میں ان کی اداکاری کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وہ ہمیشہ بہترین اسکرپٹس کا انتخاب کرتے ہیں۔ مداح منتظر ہیں کہ کب شادی شدہ ستاروں کی فہرست میں شامل ہوں گے۔
سجل علی
سجل علی نے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی کام کیا ہے، انہوں نے کچھ عرصہ قبل ساتھی اداکار احد رضا میر سے شادی کی تھی، مگر بعد میں یہ رشتہ طلاق پر ختم ہو گیا، اب وہ سنگل ہیں۔
احد رضا میر
ایک اور بڑے پاکستانی اسٹار جو اس وقت سنگل ہیں، طلاق کے بعد ان کا نام مختلف اداکاراؤں کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سنگل ہیں انہوں نے کی شادی میں بھی نہیں کی اور ان اور وہ ہیں جو
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔