درخواست دہندگان پہلے ای سہولت فرنچائز پر نادرا فیس جمع کرانے کے بعد متعلقہ نادرا آفس میں بائیو میٹرک توثیق اور ڈیٹا انٹری کروائیں گے۔ ڈیٹا ڈپٹی کمشنر یا ہوم آفس سے ڈیجیٹل منظوری کے بعد سرکاری فیس جمع کرانے پر لائسنس کارڈ جاری ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا نے نادرا کے اشتراک سے شروع کیے جانےو الے اسلحہ لائسنس کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ محکمہ داخلہ گلگت بلتستان اور نادرا کی جانب سے ہتھیاروں کے لائسنس پروجیکٹ (اے ایل پی جی بی) کے زریعے اسلحہ لائسنز کے اجراء کا نظام جدید بنایا جا رہا ہے۔ تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد، سیکریٹری داخلہ گلگت بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ سید علی اصغر سمیت ڈپٹی ڈائریکٹر حمید علی، ایکٹنگ ہیڈ آر ایچ او نادرا جی بی نے بھی شرکت کی۔ اے ایل پی جی بی گلگت بلتستان میں لائسنسوں کے اجراء کے طریقہ کار کو شفاف اور جدید بنائے گا، جس سے عوام کو محفوظ، تیز اور شفاف سروس ملے گی۔ پائلٹ مرحلے میں گلگت، سکردو اور دیامر کے نادرا آفسز فعال ہوں گے۔ درخواست دہندگان پہلے ای سہولت فرنچائز پر نادرا فیس جمع کرانے کے بعد متعلقہ نادرا آفس میں بائیو میٹرک توثیق اور ڈیٹا انٹری کروائیں گے۔ ڈیٹا ڈپٹی کمشنر یا ہوم آفس سے ڈیجیٹل منظوری کے بعد سرکاری فیس جمع کرانے پر لائسنس کارڈ جاری ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فیس جمع کرانے گلگت بلتستان کے بعد

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت