یو اے ای کا یمن میں تعینات اپنے فوجی یونٹس واپس بلانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں موجود انسدادِ دہشتگردی یونٹس کا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔
یو اے ای کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پیشرفت کے بعد جامع جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق یہ عمل متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
وزارتِ دفاع نے واضح کیاکہ یہ اقدام موجودہ مرحلے کے تقاضوں کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے متحدہ عرب امارات کے کردار اور وعدوں کے عین مطابق ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات 2015 سے عرب اتحاد کا حصہ رہا ہے، جس کا مقصد یمن میں جائز حکومت کی حمایت، دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی معاونت اور برادر یمنی عوام کے لیے امن و استحکام کا حصول ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے یو اے ای نے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔
بیان کے مطابق یو اے ای کی مسلح افواج نے متفقہ سرکاری فریم ورک کے تحت تفویض کردہ مشنز کی تکمیل کے بعد 2019 میں یمن میں اپنی فوجی موجودگی کا اختتام کر دیا تھا، جبکہ اس کے بعد صرف محدود اور خصوصی نوعیت کے اہلکار انسداد دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انسداد دہشتگردی یونٹس رضاکارانہ واپسی فوجی یونٹ متحدہ عرب امارات وی نیوز یمن تنازع یو اے ای.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی یونٹس رضاکارانہ واپسی فوجی یونٹ متحدہ عرب امارات وی نیوز یو اے ای متحدہ عرب امارات یو اے ای گیا ہے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔