جامعہ کراچی کے ممتاز فارغ التحصیل طلبہ کی انجمن یونی کیریئنز (انٹرنیشنل) کے صدر پروفیسر اعجاز فاروقی نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور یوم جامعہ کے سلسلے میں قائم آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں یکم جنوری کو یوم جامعہ کو حتمی شکل دیدی ہے۔ 

اس موقع پر ارکان نے پروفیسر اعجاز فاروقی کو تمام تر انتظامات اور تیاری کے بارے میں بریفنگ دی۔ 

صدر یونی کیریئنز (انٹرنیشنل) نے تمام تر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کی مشاورت سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی۔

پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم جنوری 2026 کو اپنی سابقہ روایات کے مطابق اپنی جامعہ اور مادرِ علمی سے عقیدت اور محبت کے اظہار کے دن کے طور پر منائے جانے والے "یومِ جامعہ" کو شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔ 

پروگرام کے مطابق شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی اور صدر یونی کیریئنز (انٹرنیشنل) پروفیسر اعجاز فاروقی جا معہ کراچی کے تمام اساتذہ کرام، یونی کیریئنز (انٹرنیشنل) کے عہدیداران اور فارغ التحصیل طلبہ، عمائدین شہر اور حفاظ کرام کے ہمراہ تمام نو واردان جامعہ کا سلور جوبلی گیٹ پر صبح 8:30 بجے استقبال کریں گے۔

جس کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کے سایہ میں سلور جوبلی گیٹ سے واک کرتے ہوئے وائس چانسلر آفس سے متصل پارکنگ ایریا میں سجے پنڈال میں داخل ہوں گے۔ جہاں مقررین پنڈال میں موجود اساتذہ کرام، فارغ التحصیل طلبہ، والدین اور نو واردان جامعہ سے خطاب کریں گے۔ 

تقریب میں عمائدین شہر اور جامعہ کراچی سے وابستہ تمام افراد کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پروفیسر اعجاز فاروقی یونی کیریئنز جامعہ کراچی

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت