پروفیسر نذیر شال کو دوسری برسی پر شاندار خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اور سینئر صحافی ڈاکٹر ایم اشرف وانی کے زیر میزبانی ویبینار کے مقررین نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے ان کی گرانقدر خدمات کو اجاگر کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایک ویبینار کے مقررین نے کشمیری دانشور، ممتاز ماہر تعلیم، مصنف، صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار پروفیسر نذیر احمد شال مرحوم کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ثابت قدم وکیل قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پروفیسر شال 2023ء میں 29 اور 30 دسمبرکی درمیانی شب لندن میں انتقال کر گئے تھے۔ یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اور سینئر صحافی ڈاکٹر ایم اشرف وانی کے زیر میزبانی ویبینار کے مقررین نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے ان کی گرانقدر خدمات کو اجاگر کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سینئر رہنما محمد فاروق رحمانی نے پروفیسر شال کی ہمت اور مستقل مزاجی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خرابی صحت کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی کشمیر کاز کے لیے وقف کر رکھی تھی۔انٹرنیشنل کونسل فار ہیومن رائٹس کشمیر سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالمجید ترمبو نے کشمیر سے متعلق عالمی مشاورتی گروپ کے قیام میں پروفیسر شال کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی شخصیت قرار دیا جن کی وکالت اور سفارت کاری بے مثال تھی۔
سابق امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابی نے پروفیسر شال کو ایک اصولی رہنما قرار دیا جنہوں نے کشمیر کے بارے میں اہم بیانیے کو تشکیل دیا۔ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے پروفیسر شال کو ایک ممتاز اسکالر قرار دیا جن کی کتابیں اور شاعری کشمیریوں کے دکھ، درد اورجذبہ حریت کی عکاسی کرتی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنماء شمیم شال اور مشتاق حسین گیلانی اور انسانی حقوق کے کارکن رئیس احمد میر کے ہمراہ پروفیسر شال کے جذبہ حب الوطنی، دور اندیشی اور مظلوم کشمیریوں کی آواز کو بلند کرنے کے لیے غیر متزلزل لگن کی تعریف کی۔ ویبنار کے اختتام پر مرحوم کی درجارت کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروفیسر شال قرار دیا کے زیر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔