فلائنگ ٹیکسی سروس کا وقت آ گیا ہے!
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-03-5
خلیل الرحمن
بخدمت: وزیر ِ اعلیٰ سندھ ؍ وزیر ِ ٹرانسپورٹ … جنابِ عالی
کراچی جو پاکستان کا معاشی ستون ہے اس وقت سڑکوں کی ابتر صورتحال اور بدترین ٹریفک جام کی لپیٹ میں ہے سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ گڑھوں اور طویل تعمیراتی منصوبوں نے نہ صرف شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ حادثات کی شرح میں بھی خوفناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ روایتی طریقوں سے سڑکیں بنانا اور ٹریفک کنٹرول کرنا اب ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم آؤٹ آف دی باکس حل سوچیں اور کراچی کو دنیا کے ان جدید شہروں کی صف میں شامل کریں جو Vertical Mobility (فضائی سفر) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
کراچی ائر موبلٹی پروجیکٹ: حکومت کو چاہیے کہ شہر میں فلائنگ ٹیکسیوں (eVTOL- electric Vertical Take off and Landing) کے منصوبے پر فوری غور کرے اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ جب سڑکیں بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہیں تو فضا کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ ٹیکنالوجی سڑکوں پر موجود رش کو کم کرنے کا سب سے تیز ذریعہ ہے۔ فلائنگ ٹیکسیوں کو ابتدائی طور پر ائر ایمبولینس کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ حادثات کے زخمیوں کو ٹریفک میں پھنسے بغیر اسپتال پہنچایا جا سکے۔ بزنس کمیونٹی اور اہم پیشہ ور افراد کے لیے اڑن طشتریوں یا فضائی ٹیکسیوں کا قیام وقت کی بچت اور کاروبار میں تیزی کا باعث بنے گا۔ فلائنگ ٹیکسیوں کے لیے وسیع سڑکوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف بلند عمارتوں پر ’ورٹی پورٹس‘ (Vertiports) بنا کر یہ نظام چلایا جا سکتا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ِ سندھ بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایک پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کرے اور کراچی کے لیے ائر ٹریفک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرے تاکہ مستقبل کی اس ضرورت کو آج ہی حقیقت بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔