جابر حکمران اور کلمہ ٔ حق
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
علما کو انبیاء کا وارث کیوں قرار دیا گیا؟ ایک حدیث نبوی کے مطابق بے شک علماء انبیاء کرام کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء کرام نے اپنی وراثت میں درہم و دینار نہیں بلکہ اپنا علم چھوڑا، جس نے اس میراث کو حاصل کیا اس نے انبیاء کی میراث کا بہت بڑا حصہ پا لیا۔ ایک اور حدیث کے مطابق نبی کریمؐ نے فرمایا کہ علمائے حق زمین میں اُن ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے اندھیروں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ کیا آج آپ کو اپنے ارد گرد انبیاء کے وارث علمائے حق نظر آتے ہیں؟ جب ہم جبہ و دستار میں ملبوس باریش علماء کو حکمرانوں کی خوشامد کرتا دیکھتے ہیں تو وہ حدیث یاد آجاتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنا بہترین جہاد ہے۔ یعنی عِلم کو عمل کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید بار بار اللہ سے ڈرنے اور سچ بولنے کا حکم دیتا ہے اور وعظ و نصیحت پر اُجرت نہ لینے کی تاکید کرتا ہے۔ جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کو بہترین جہاد اس لیے کہا گیا کہ میدانِ جنگ میں جان کا جانا یقینی نہیں، آپ اپنا دفاع بھی کر سکتے ہیں لیکن جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنے کے بعد جان کا جانا یقینی ہے۔ ہم اُس کلمہ ٔ حق کو بہترین جہاد کے زمرے میں شامل نہیں کر سکتے جو آج کے دور میں کسی جابر سلطان کی پہنچ سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر سوشل میڈیا پر بہتان یا الزام کی صورت میں پھیلایا جاتا ہے۔ کلمہ ٔ حق کی بہترین مثال سیدنا امامِ حسینؐ کا انکار ہے۔ انہیں اس انکار کا نتیجہ معلوم تھا لیکن انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے محمد علی جوہر کو بھی یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘۔ سیدنا امام حسینؓ کی روایت کو علمائے حق نے برقرار رکھا۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام جعفر صادقؒ اور امام احمدبن حنبلؒ جیسے بڑے علماء حکمرانوں کے دربار سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ عباسی خلیفہ منصور اپنے وقت کے بڑے عالم امام ابو حنیفہ کو قاضی (چیف جسٹس) بنانا چاہتا تھا۔ انکار پر امام ابو حنیفہؒ کو جیل میں بند کر دیا گیا۔ اُنہیں جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا تا کہ وہ یہ عہدہ قبول کر لیں لیکن وہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ اُن کا جنازہ جیل سے اُٹھا۔ خلیفہ منصور نے امام مالک بن انسؒ اور امام جعفر صادقؒ کو بھی ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ ان دونوں علماء نے اس جابر حکمران کی اطاعت سے انکار کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ایک اور عباسی خلیفہ المامون کی فرمائش پر فتویٰ دینے سے انکار کیا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ المامون کے مرنے کے بعد اُس کا بھائی معتصم باللہ خلیفہ بنا۔ اُس نے امام احمد بن جنبلؒ کو اپنی اطاعت پر مجبور کیا۔ انکار پر انہیں دربار میں کپڑے اُتار کر کوڑے مارے گئے۔ ان علماء نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اللہ کی کتاب مومن کو غلامی کے طریق نہیں سکھاتی بلکہ ایسا علم عطا کرتی ہے جس پر عمل کر کے وہ دنیاوی طاقتوں کی غلامی سے آزادی حاصل کر لیتا ہے۔ اللہ کی کتاب کو حفظ کرنا واقعی بہت بڑی سعادت ہے لیکن مومن تو وہی ہے جو اس کتاب میں بیان کیے گئے علم پر عمل بھی کرتا ہے۔ حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔ اُسی نے محمد بن قاسم کو ہندوستان بھیجا تھا۔ وہ حافظ قرآن تھا لیکن اُس کے اعمال نے اُسے ظلم و جبر کی علامت بنا دیا۔ ایک صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے عبد الملک بن مروان کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو مروان نے ان کی سرکوبی کے لیے حجاج بن یوسف کو مکہ اور مدینہ بھیجا۔ حجاج بن یوسف نے مکہ کی ناکہ بندی کی اور سنگ باری کا حکم دیا۔ مکہ اور مدینہ کے لوگ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی بڑی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے نواسے، سیدنا عائشہؓ کے بھانجے اور کئی نامور صحابہ کے شاگرد تھے۔ حجاج بن یوسف نے اس بزرگ صحابی کو شہید کرکے اُن کی لاش کو تین دن تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی والدہ سیدہ اسماء نے بیٹے کی لاش سولی پر لٹکتی دیکھی تو بولی کہ شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا۔ سیدنا سعید بن جبیرؓ ایک تابعی بزرگ تھے۔ انہوں نے ایک دن منبر پر کہہ دیا کہ حجاج ایک ظالم شخص ہے۔ حجاج کو خبر ملی کہ سعید بن جبیر نے اسے ظالم کہا ہے۔ اس بزرگ عالم دین کو گرفتار کر کے حجاج کے دربار میں پیش کیا گیا۔ جابر حکمران نے پوچھا کیا تم نے مجھے ظالم کہا؟ سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ، انس بن مالکؒ اور ابو موسیٰ اشعریؓ کے علاوہ سیدنا عائشہؓ کے شاگرد سعید بن جبیرؓ نے جواب میں کہا ہاں تو ایک ظالم شخص ہے۔ یہ سن کر حجاج غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اُس نے سعید بن جبیرؓ کے قتل کا حکم دیدیا۔ جب آپ کو قتل کے لیے دربار سے باہر لیجانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج نے پوچھا مسکراتے کیوں ہو؟ سعید بن جبیرؓ نے جواب میں کہا تیری بے وقوفی پر مسکراتا ہوں۔ اللہ تجھے ڈھیل دے رہا ہے۔ حجاج نے فوری حکم دیا اسے میرے سامنے ذبح کرو۔ جب جلاد نے خنجر سعید بن جبیر کے گلے پر رکھا تو آپ نے چہرہ قبلہ کی طرف کیا اور کہا کہ اے اللہ! میرا چہرہ تیری طرف ہے میں تیری رضا پر راضی ہوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ہے نہ زندگی کا۔ اب کی دفعہ حجاج نے حکم دیا اس کا چہرہ پھیر دو۔ جلاد نے چہرہ پھیر دیا تو سعید بن جبیر بولے یا اللہ چہرے کا رخ جدھر بھی ہو تو ہر جگہ موجود ہے۔ مشرق و مغرب ہر طرف تیری حکمرانی ہے۔ انہوں نے کہا میری دعا ہے کہ میرا قتل اس ظالم کا آخری ظلم ہو، اے اللہ میرے بعد اس ظالم کو کسی پر مسلط نہ فرمانا۔ یہ جملہ ادا ہوتے ہی ایک حافظ قرآن حکمران حجاج بن یوسف کے حکم پر سعید بن جبیرؓ کو شہید کر دیا گیا۔ اُن کی شہادت کے چند دن بعد حجاج بن یوسف بیمار ہو گیا۔ وہ نفسیاتی مریض بن گیا۔ اُسے خواب میں سعید بن جبیرؓ نظر آتے تھے۔ اسے بہت زیادہ سردی لگتی تھی۔ اس کے ارد گرد آگ جلائی جاتی لیکن وہ ٹھٹھرتا رہتا۔ حکماء نے بتایا وہ پیٹ کے سرطان کا شکار ہو چکا تھا۔ پھر اُس نے حسن بصریؒ کو دعا کے لیے بلایا۔ وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے کیونکہ وہ جیتے جی نشان عبرت بن چکا تھا۔ حجاج نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد میری قبر کا نشان مٹا دیا جائے کیونکہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ سیدنا سعید بن جبیرؓ کی شہادت کے چالیس دن بعد حجاج کی موت واقع ہو گئی۔ حجاج بن یوسف کی اطاعت سے انکار کرنے والے عالم دین سعید بن جبیرؓ نے سیدنا امام حسینؓ کی روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن جب کچھ علماء جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنے کے بجائے اُس کی خوشامد شروع کر دیں تو پھر وہ علمائے حق نہیں علمائے سو کہلاتے ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ علمائے حق حکمرانوں کے دربار میں حاضریاں نہیں دیتے بلکہ حکمران رہنمائی کے لیے خود چل کر علمائے حق کے پاس جاتے ہیں۔ جب کوئی عالم جبہ و دستار پہن کر، حکمران وقت کے سامنے بیٹھ کر اُس کی شان میں قصیدے پڑھے بلکہ اس کے حق میں نعرے بازی شروع کر دے تو حکمران کو جان لینا چاہیے کہ یہ عالم نہیں بلکہ وہ ظالم ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دین فروشی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے حکمران فتوی فروش مولویوں کی خوشامد کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ جو بھی کرتے ہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں کسی انسان کی رضا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جابر حکمران کے سامنے کلمہ سیدنا عبداللہ حجاج بن یوسف سے انکار دیا گیا کے لیے کے بعد کر دیا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :