Jasarat News:
2026-06-03@01:13:28 GMT

جابر حکمران اور کلمہ ٔ حق

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

علما کو انبیاء کا وارث کیوں قرار دیا گیا؟ ایک حدیث نبوی کے مطابق بے شک علماء انبیاء کرام کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء کرام نے اپنی وراثت میں درہم و دینار نہیں بلکہ اپنا علم چھوڑا، جس نے اس میراث کو حاصل کیا اس نے انبیاء کی میراث کا بہت بڑا حصہ پا لیا۔ ایک اور حدیث کے مطابق نبی کریمؐ نے فرمایا کہ علمائے حق زمین میں اُن ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے اندھیروں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ کیا آج آپ کو اپنے ارد گرد انبیاء کے وارث علمائے حق نظر آتے ہیں؟ جب ہم جبہ و دستار میں ملبوس باریش علماء کو حکمرانوں کی خوشامد کرتا دیکھتے ہیں تو وہ حدیث یاد آجاتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنا بہترین جہاد ہے۔ یعنی عِلم کو عمل کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید بار بار اللہ سے ڈرنے اور سچ بولنے کا حکم دیتا ہے اور وعظ و نصیحت پر اُجرت نہ لینے کی تاکید کرتا ہے۔ جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کو بہترین جہاد اس لیے کہا گیا کہ میدانِ جنگ میں جان کا جانا یقینی نہیں، آپ اپنا دفاع بھی کر سکتے ہیں لیکن جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنے کے بعد جان کا جانا یقینی ہے۔ ہم اُس کلمہ ٔ حق کو بہترین جہاد کے زمرے میں شامل نہیں کر سکتے جو آج کے دور میں کسی جابر سلطان کی پہنچ سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر سوشل میڈیا پر بہتان یا الزام کی صورت میں پھیلایا جاتا ہے۔ کلمہ ٔ حق کی بہترین مثال سیدنا امامِ حسینؐ کا انکار ہے۔ انہیں اس انکار کا نتیجہ معلوم تھا لیکن انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے محمد علی جوہر کو بھی یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘۔ سیدنا امام حسینؓ کی روایت کو علمائے حق نے برقرار رکھا۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام جعفر صادقؒ اور امام احمدبن حنبلؒ جیسے بڑے علماء حکمرانوں کے دربار سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ عباسی خلیفہ منصور اپنے وقت کے بڑے عالم امام ابو حنیفہ کو قاضی (چیف جسٹس) بنانا چاہتا تھا۔ انکار پر امام ابو حنیفہؒ کو جیل میں بند کر دیا گیا۔ اُنہیں جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا تا کہ وہ یہ عہدہ قبول کر لیں لیکن وہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ اُن کا جنازہ جیل سے اُٹھا۔ خلیفہ منصور نے امام مالک بن انسؒ اور امام جعفر صادقؒ کو بھی ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ ان دونوں علماء نے اس جابر حکمران کی اطاعت سے انکار کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ایک اور عباسی خلیفہ المامون کی فرمائش پر فتویٰ دینے سے انکار کیا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ المامون کے مرنے کے بعد اُس کا بھائی معتصم باللہ خلیفہ بنا۔ اُس نے امام احمد بن جنبلؒ کو اپنی اطاعت پر مجبور کیا۔ انکار پر انہیں دربار میں کپڑے اُتار کر کوڑے مارے گئے۔ ان علماء نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اللہ کی کتاب مومن کو غلامی کے طریق نہیں سکھاتی بلکہ ایسا علم عطا کرتی ہے جس پر عمل کر کے وہ دنیاوی طاقتوں کی غلامی سے آزادی حاصل کر لیتا ہے۔ اللہ کی کتاب کو حفظ کرنا واقعی بہت بڑی سعادت ہے لیکن مومن تو وہی ہے جو اس کتاب میں بیان کیے گئے علم پر عمل بھی کرتا ہے۔ حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔ اُسی نے محمد بن قاسم کو ہندوستان بھیجا تھا۔ وہ حافظ قرآن تھا لیکن اُس کے اعمال نے اُسے ظلم و جبر کی علامت بنا دیا۔ ایک صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے عبد الملک بن مروان کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو مروان نے ان کی سرکوبی کے لیے حجاج بن یوسف کو مکہ اور مدینہ بھیجا۔ حجاج بن یوسف نے مکہ کی ناکہ بندی کی اور سنگ باری کا حکم دیا۔ مکہ اور مدینہ کے لوگ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی بڑی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے نواسے، سیدنا عائشہؓ کے بھانجے اور کئی نامور صحابہ کے شاگرد تھے۔ حجاج بن یوسف نے اس بزرگ صحابی کو شہید کرکے اُن کی لاش کو تین دن تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی والدہ سیدہ اسماء نے بیٹے کی لاش سولی پر لٹکتی دیکھی تو بولی کہ شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا۔ سیدنا سعید بن جبیرؓ ایک تابعی بزرگ تھے۔ انہوں نے ایک دن منبر پر کہہ دیا کہ حجاج ایک ظالم شخص ہے۔ حجاج کو خبر ملی کہ سعید بن جبیر نے اسے ظالم کہا ہے۔ اس بزرگ عالم دین کو گرفتار کر کے حجاج کے دربار میں پیش کیا گیا۔ جابر حکمران نے پوچھا کیا تم نے مجھے ظالم کہا؟ سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ، انس بن مالکؒ اور ابو موسیٰ اشعریؓ کے علاوہ سیدنا عائشہؓ کے شاگرد سعید بن جبیرؓ نے جواب میں کہا ہاں تو ایک ظالم شخص ہے۔ یہ سن کر حجاج غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اُس نے سعید بن جبیرؓ کے قتل کا حکم دیدیا۔ جب آپ کو قتل کے لیے دربار سے باہر لیجانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج نے پوچھا مسکراتے کیوں ہو؟ سعید بن جبیرؓ نے جواب میں کہا تیری بے وقوفی پر مسکراتا ہوں۔ اللہ تجھے ڈھیل دے رہا ہے۔ حجاج نے فوری حکم دیا اسے میرے سامنے ذبح کرو۔ جب جلاد نے خنجر سعید بن جبیر کے گلے پر رکھا تو آپ نے چہرہ قبلہ کی طرف کیا اور کہا کہ اے اللہ! میرا چہرہ تیری طرف ہے میں تیری رضا پر راضی ہوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ہے نہ زندگی کا۔ اب کی دفعہ حجاج نے حکم دیا اس کا چہرہ پھیر دو۔ جلاد نے چہرہ پھیر دیا تو سعید بن جبیر بولے یا اللہ چہرے کا رخ جدھر بھی ہو تو ہر جگہ موجود ہے۔ مشرق و مغرب ہر طرف تیری حکمرانی ہے۔ انہوں نے کہا میری دعا ہے کہ میرا قتل اس ظالم کا آخری ظلم ہو، اے اللہ میرے بعد اس ظالم کو کسی پر مسلط نہ فرمانا۔ یہ جملہ ادا ہوتے ہی ایک حافظ قرآن حکمران حجاج بن یوسف کے حکم پر سعید بن جبیرؓ کو شہید کر دیا گیا۔ اُن کی شہادت کے چند دن بعد حجاج بن یوسف بیمار ہو گیا۔ وہ نفسیاتی مریض بن گیا۔ اُسے خواب میں سعید بن جبیرؓ نظر آتے تھے۔ اسے بہت زیادہ سردی لگتی تھی۔ اس کے ارد گرد آگ جلائی جاتی لیکن وہ ٹھٹھرتا رہتا۔ حکماء نے بتایا وہ پیٹ کے سرطان کا شکار ہو چکا تھا۔ پھر اُس نے حسن بصریؒ کو دعا کے لیے بلایا۔ وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے کیونکہ وہ جیتے جی نشان عبرت بن چکا تھا۔ حجاج نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد میری قبر کا نشان مٹا دیا جائے کیونکہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ سیدنا سعید بن جبیرؓ کی شہادت کے چالیس دن بعد حجاج کی موت واقع ہو گئی۔ حجاج بن یوسف کی اطاعت سے انکار کرنے والے عالم دین سعید بن جبیرؓ نے سیدنا امام حسینؓ کی روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن جب کچھ علماء جابر حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنے کے بجائے اُس کی خوشامد شروع کر دیں تو پھر وہ علمائے حق نہیں علمائے سو کہلاتے ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ علمائے حق حکمرانوں کے دربار میں حاضریاں نہیں دیتے بلکہ حکمران رہنمائی کے لیے خود چل کر علمائے حق کے پاس جاتے ہیں۔ جب کوئی عالم جبہ و دستار پہن کر، حکمران وقت کے سامنے بیٹھ کر اُس کی شان میں قصیدے پڑھے بلکہ اس کے حق میں نعرے بازی شروع کر دے تو حکمران کو جان لینا چاہیے کہ یہ عالم نہیں بلکہ وہ ظالم ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دین فروشی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے حکمران فتوی فروش مولویوں کی خوشامد کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ جو بھی کرتے ہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں کسی انسان کی رضا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)

 

حامد میر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جابر حکمران کے سامنے کلمہ سیدنا عبداللہ حجاج بن یوسف سے انکار دیا گیا کے لیے کے بعد کر دیا

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے