بنگلادیش؛ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا طویل عرصے سے علالت کے بعد آج صبح اپنے لاکھوں سیاسی پیروکاروں کو ہمیشہ کے لیے سوگوار چھوڑ گئی تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس شیخ حسینہ کے حکومت چھوڑ کر بھارت فرار ہوجانے کے بعد 80 سالہ خالدہ ضیاء کو طویل قید سے رہائی ملی تھی۔
تاہم جیل میں ہی ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور کئی بیماریوں نے آن گھیرا تھا لیکن اس وقت کی شیخ حسینہ حکومت نے علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔
رہائی کے بعد سے بھی وہ مسلسل بیمار تھیں، انھیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا پھر بیرون ملک سے ڈاکٹرز کی ٹیم بھی معائنے کے لیے آئی تھی۔
بعد ازاں طبیعت نہ سنبھلنے پر خالدہ ضیا کو بیرون ملک منتقل کیا جانا تھا لیکن موقع نہ مل سکا۔ ڈھاکا کے ایک اسپتال میں ان کا علاج جاری تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
یاد رہے کہ ان کے صاحبزادے بھی طویل جلاوطنی کو ترک کرکے بنگلادیش پہنچے تھے۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ والدہ خالدہ ضیا کی نماز جنازہ اور تدفین اور کل ادا کی جائے گی۔
خالدہ ضیا کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا جائے گا جب کہ سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے نماز جنازہ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ وفد بھی شرکت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خالدہ ضیا
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم