حکومت کا نام نہاد زرعی پیکیج صرف کاغذی دعویٰ ہے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-06-9
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)کسان بورڈ پاکستان کے صدرسردارظفرحسین خاںنے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں کاشتکار طبقے کو مجموعی طور پر 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت کا نام نہاد زرعی پیکیج صرف کاغذی دعویٰ ہے، گندم کی پیداوار میں مسلسل کمی آئندہ فصلوں کو بھی متاثر کرے گی۔ حکومتی ناقص زرعی پالیسیوں کی بدولت معیشت بھی عدم استحکام کا شکار ہے۔ فوڈ سکیورٹی کسی بھی ملک کی معیشت اور دفاع کی ضامن ہوتی ہے، کسان کارڈ یا دیگر اسکیمیں وقتی حل ہیں، اصل مسئلہ منڈی میں نرخ نہ ملنے کا ہے، کاشتکار کو کسی بھی فصل کا معقول ریٹ نہیں مل رہا جس سے زراعت شدید بحران کا شکار ہے، اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو کسان کاشتکاری بند کر نے پرمجبورہوں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ اقدامات مقامی کسان کے مفاد میں نہیں، بلکہ ملکی زراعت کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں، حکومت فوڈ ایکسپورٹ کمیشن قائم کرے جو زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرے۔موجودہ حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھاد، بیج، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔حکومتی ارکان نے اپنی تنخواہوں میں 600 فیصد اضافہ کر لیا مگر کسان آج بچوں کو تعلیم اور دو وقت کی روٹی دینے سے بھی قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پیداوار کم ہو رہی ہے، جبکہ حکومتی بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اس کی بہتری کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ اگر حالات یہی رہے تو زرعی شعبہ مکمل تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔