کراچی اور پانی کی نایابی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی کے باسی پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ ہر مہینہ پندرہ دن میں الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے یہ سرخیاں شہریوں کو عذاب میں مبتلا کرتی ہیں کہ کراچی الیکٹرک نظام کے کریک ڈاؤن کی بناء پر دھابیجی، گھارو اور حب ڈیم سے پانی کی سپلائی بند ہوگی۔ یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے پائپ لائن پھٹ گئی، یوں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی دستیاب نہیں ہوگا۔
بعض اوقات کے الیکٹرک کے افسر واٹرکارپوریشن کی اس خبرکی تردید کرتے ہوئے، یہ بیانیہ اختیارکرتے ہیں کہ بجلی کی سپلائی بند نہیں ہوئی تھی۔ واٹر کارپوریشن کے افسروں نے اپنے نظام کی خرابی کی ذمے داری بجلی کی معطلی پر غلط عائدکی ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ صدی کی 80 ویں دہائی سے جاری ہے اور حقائق ظاہرکرتے ہیں کہ اس صورتحال میں تبدیلی کا مستقبل میں کوئی امکان نہیں ہے۔ شہرکے مختلف علاقوں میں واٹر کارپوریشن کے پرانے پمپنگ اسٹیشن پانی کو گھروں، دفاتر اور صنعتی اداروں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، مگر ان پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بند ہونا معمول کی بات بن گئی ہے۔
ایک بڑے اخبار میں شایع ہونے والی رپورٹ میں تحریرکیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن کی بجلی اچانک بند ہوگئی اور اگلے 21 گھنٹوں تک بجلی کی لائنیں بے جان پڑی رہیں، جس کی بناء پر نہ صرف اسکیم 33 میں پانی کی سپلائی معطل ہوئی بلکہ شہرکو اچانک 15 ملین گیلن کمی کی سامنا کرنا پڑا۔ اس پورے علاقے میں جو مکین صاحب ثروت تھے، انھوں نے تو ٹینکروں سے پانی خریدا۔ کچھ لوگوں نے بورنگ کا پانی حاصل کیا مگر پھر کے الیکٹرک ترجمان نے وضاحت کی کہ اس علاقے میں بجلی کی سپلائی معطل نہیں ہوئی تھی، واٹرکارپوریشن کے اندرونی نظام میں ایک بڑی خرابی پیدا ہوئی تھی، جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بہرحال اس صورتحال کا نہ تو حکومت سندھ نے کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی نیپرا نے حقائق کو جاننے کی کوشش کی۔
بلدیاتی امورکی رپورٹنگ کرنے والے صحافی کا کہنا ہے کہ واٹرکارپوریشن کے مرکزی دفتر، محکمہ بلدیات کے سیکریٹریٹ اور سندھ کی تمام اعلیٰ شخصیتوں کے دفاتر اور ان کے گھروں میں جدید جنریٹر اور سولر سسٹم نصب ہیں، جس کے اخراجات حکومت سندھ برداشت کرتی ہے مگر پانی کی فراہمی کے سب سے اہم منصوبوں میں کن وجوہات کی بناء پر بجلی کا متبادل نظام نہیں ہے۔ متعلقہ حلقوں نے اس بارے میں وضاحت نہیں کی، نہ کبھی سرکاری طور پر اس بارے میں کوئی بیانیہ پیش نہیں کیا گیا کہ نلکوں میں پانی کیوں نہیں آتا اور ٹینکروں والے کہاں سے پانی حاصل کرلیتے ہیں؟ اس صدی کے آغاز پرکراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے The Greater Karachi Bulk Water Supply Scheme (K-IV) Augmentation کا منصوبہ 2021 ء میں شروع ہوا تھا۔
اس منصوبے کے تحت کراچی شہر کو تین مرحلوں میں روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم ہونا تھا مگر یہ منصوبہ 14 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوا۔ اس منصوبے میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ افسر نے ایک دفعہ صحافیوں کو خوش خبری سنائی تھی کہ 2025 میں یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا، مگر اب سال 2025 ختم ہوچکا۔ عجب ستم ظریفی یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے جو اس منصوبے کی سب سے بڑی ڈونر ہے، مایوس کن رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اس منصوبہ سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے 40 بلین روپے کی ضرورت ہے مگر وفاقی حکومت نے منصوبہ کے لیے اس مالیاتی سال کے بجٹ میں 3.
محمد توحید کا شمار ملک کے چند اربن پلاننرز میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے مضامین کی کتاب ’’ کراچی، عوام دوست منصوبہ بندی کی بنیاد ‘‘ میں لکھا ہے کہ شہر کی آبادی بڑھنے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت پانی کی طلب میں اضافہ کا باعث ہے مگر دوسری جانب آبی ذرایع، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے وسائل اور صلاحیتیں محدود تر ہوتی جارہی ہیں۔ ان تمام عوام کو یکجا کیا جائے تو کراچی میں عام لوگوں کا ایک بڑا مسئلہ پانی کی کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2017میں کراچی واٹرکارپوریشن نے عدالتی کمیشن کے سامنے جو اعداد و شمار جمع کرائے تھے، ان اعداد و شمارکے مطابق شہرکی کل طلب کا تخمینہ 1.188 ملین گیلن یومیہ تھا، جس کے مقابلے میں 55 فیصد یعنی 650 ملین گیلن پانی شہریوں کے لیے دستیاب تھا۔
اس وقت پانی کی طلب 54 گیلن یومیہ بتائی گئی مگر کچھ برسوں بعد پانی کی ضرورت 1100 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ گئی مگر واٹر کارپوریشن ایسی بدانتظامی کا شکار ہے کہ جس کا نقصان شہر کو پہنچ رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ واٹر بورڈ کا عملہ مختلف نوعیت کی بدعنوانیوں کا شکار ہے۔ یہ عملہ مختلف طریقوں سے پانی فروخت کرتا ہے۔
کراچی کے شہریوں نے زمین میں بورنگ کے ذریعے پانی حاصل کرنے کا آسان طریقہ اختیارکیا ہے مگر صحتِ عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پانی صحت کے لیے قابلِ استعمال نہیں اور اس طرح بورنگ کے پانی کی بناء پر عمارتیں زمین میں دھنستی جارہی ہیں۔ واٹر کارپوریشن کے ایک ریٹائرڈ سیکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر صرف واٹر مافیا کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں تو بہت سے ایسے حقائق سامنے آئیں گے کہ اسلام آباد تک اس دھماکا سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ شہریوں کو کب صاف پانی ملے گا، اس سوال کا جواب کس کے پاس ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن کارپوریشن کے کا کہنا ہے کہ کی بناء پر کی سپلائی ملین گیلن میں پانی بجلی کی پانی کی سے پانی ہے مگر ہیں کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔