بنگلا دیش کی سیاست: ایک سوال
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیاست میں وقت کبھی غیر اہم نہیں ہوتا، خاص طور پر جب واپسی سترہ (17) سال بعد ہو وہ بھی۔ اُس وقت جب حالات مکمل طور پر ’’موافق‘‘ بنا دیے گئے ہوں۔ بنگلا دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمن کی وطن واپسی کو جس طرح ’’جلاوطنی کے خاتمے‘‘ اور ’’جمہوری پیش رفت‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ محض سادہ لوحی نہیں بلکہ دانستہ بیانیہ سازی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ واپس آئے، اصل سوال یہ ہے کہ سترہ سال بعد، اسی لمحے کیوں آئے؟ اگر واقعی یہ جلاوطنی تھی تو پھر حالات سازگار ہوتے ہی واپسی کیوں نہ ہوئی؟ سترہ برس تک کون سی مجبوری آڑے رہی؟ یا پھر یہ پورا عرصہ اس یقین دہانی کے حصول میں صرف ہوا کہ کہیں شیخ حسینہ واجد کسی اندرونی یا بیرونی بندوبست کے تحت دوبارہ سیاسی منظرنامے میں واپس نہ آ جائیں؟
جنوبی ایشیا کی سیاست میں ’’ناممکن‘‘ کا ممکن ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ یہاں کل کا مفرور آج کا محب ِ وطن اور آج کا آمر کل کا جمہوریت پسند بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ سوال طنزیہ ضرور ہے، مگر غیر سنجیدہ ہرگز نہیں۔ یہاں سب سے بڑی بددیانتی الفاظ کے انتخاب میں کی جا رہی ہے۔ جلاوطنی ایک سیاسی اصطلاح ہے، جو جبر، آمریت اور نظریاتی مزاحمت سے جڑی ہوتی ہے۔ جو شخص ریاستی ظلم کے باعث وطن سے نکالا جائے، وہ جلاوطن کہلاتا ہے۔ لیکن جو شخص کرپشن کے مقدمات میں سزا پائے، پھر ’’علاج‘‘ کے نام پر این آر او حاصل کر کے ملک چھوڑ دے، وہ جلاوطن نہیں ہوتا وہ فرار اختیار کرتا ہے۔
طارق رحمن کسی نظریے کی وجہ سے قید نہیں ہوئے تھے، نہ کسی عوامی تحریک کے جرم میں۔ وہ اپنی والدہ کے دورِ حکومت میں ہونے والی مالی بدعنوانیوں کے باعث سزا یافتہ تھے۔ اگر اس بنیادی حقیقت کو خبر سے نکال دیا جائے تو وہ خبر نہیں رہتی، بلکہ سیاسی تشہیر بن جاتی ہے۔ اور بدقسمتی سے آج کی صحافت اسی تشہیر کا نام بنتی جا رہی ہے۔
پھانسی گھاٹ اور این آر او۔ قربانی کس نے دی؟ یہاں بنگلا دیشی سیاست کی اصل اخلاقی تقسیم واضح ہو جاتی ہے۔ ایک طرف جماعت اسلامی بنگلا دیش کے وہ قائدین اور کارکنان ہیں جنہیں جھوٹے اور متنازع مقدمات میں سزائے موت دی گئی۔ وہ لوگ جنہوں نے جیلیں کاٹیں، تختۂ دار قبول کیا، مگر اصولوں پر سودے بازی نہ کی۔ نہ این آر او مانگا، نہ بیرونِ ملک پناہ لی، نہ بیماری کو ڈھال بنایا۔ دوسری طرف طارق رحمن ہیں۔ جب جماعت اسلامی کے بزرگ پھانسی کے پھندوں پر جھول رہے تھے، تب یہ موصوف ’’علاج‘‘ کے نام پر حکومت سے رعایت لے کر بیرون ملک روانہ ہو گئے۔
یہ تاریخ کا وہ منظر ہے جسے میڈیا بار بار دھندلانے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ دھندلا نہیں ہوتا۔ کیونکہ قومیں وقتی بیانیے بھول سکتی ہیں، مگر اجتماعی یادداشت کبھی مرتی نہیں۔ سترہ سال کسی قوم کے لیے معمولی عرصہ نہیں ہوتے۔ یہ ایک پوری نسل کی سیاسی تربیت، فکری تشکیل اور شعوری ارتقا کا زمانہ ہوتا ہے۔ ان برسوں میں بنگلا دیش نے آمریت دیکھی، جبر سہا، پھانسیاں برداشت کیں، مزاحمت کی، اور بالآخر تبدیلی کے دہانے تک پہنچا۔ لیکن لندن میں بیٹھ کر کی جانے والی سیاست نے ہمیشہ محفوظ فاصلے کو ترجیح دی۔ یہ سیاست نہیں، ریموٹ کنٹرول قیادت ہے۔ جو نادیدہ قوتوں کے لیے قابل ِ قبول اور عوام کے لیے ناقابل ِ اعتبار ہوتی ہے۔
طارق رحمن کی سیاست کا سب سے بڑا سہارا ان کی اپنی جدوجہد نہیں بلکہ ان کی والدہ کا نام ہے۔ یہی موروثی سیاست جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ قیادت کردار سے بنتی ہے، وراثت سے نہیں مگر ہمارے خطے میں اقتدار خاندانی جاگیر بن چکا ہے۔ میڈیا جب ایسی قیادت کو ’’عوامی امید‘‘ بنا کر پیش کرتا ہے تو وہ دراصل عوام کے شعور کی توہین کرتا ہے اور جمہوریت کو ایک خاندانی برانڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
تبدیلی کس کی جدوجہد سے آئی؟ آج بنگلا دیش میں یہ کوئی خفیہ بات نہیں رہی کہ جو سیاسی تبدیلی رونما ہوئی ہے، وہ کسی لندن بیسڈ قیادت کا نتیجہ نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی طویل قربانیوں، استقامت اور عوامی جدوجہد کا ثمر ہے۔ عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا: کون جیلوں میں سڑا۔ کون پھانسی چڑھا۔ کون نظریے پر ڈٹا رہا اور کون محفوظ فاصلے سے سیاست کرتا رہا۔ اسی لیے آج یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ آنے والے انتخابات میں جماعت اسلامی فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر رہی ہے بلکہ جیت کی پوزیشن میں ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوام کی خدمت اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی مثال قائم کی۔ وہ لوگ جن کی قربانی کے بغیر آج کا بنگلا دیش بالکل مختلف ہوتا۔ ان قربانیوں کو نظرانداز کر کے کوئی بھی بیرون ملک بیٹھا لیڈر اپنی مقبولیت ثابت نہیں کر سکتا۔
جب بھی کوئی نظریاتی اور عوامی قوت آگے بڑھتی ہے، تو اس کے مقابل ایک ’’قابل ِ قبول‘‘ متبادل تیار کیا جاتا ہے۔ طارق رحمن کی سترہ سال بعد واپسی کا وقت، انداز اور میڈیا کوریج سب کچھ یہی بتاتا ہے کہ یہ محض ایک شخص کی واپسی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کا راستہ روکنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ پرانا نسخہ ایک بار پھر آزمایا جا رہا ہے: موروثی چہرہ۔ کرپشن زدہ مگر ’’مینج ایبل‘‘ سیاست۔ عالمی دارالحکومتوں میں قابل ِ قبول بیانیہ اور میڈیا کی مکمل سرپرستی۔ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ یہاں سب سے اہم بات یہی ہے: بنگلا دیش کا عوامی شعور اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ لوگ جان چکے ہیں کہ قربانی کیا ہوتی ہے اور موقع شناسی کیا۔ سترہ سال بعد کی واپسی نہ جدوجہد کہلاتی ہے، نہ قربانی یہ محض سیاسی ٹائمنگ ہے۔ جماعت اسلامی کا راستہ اب کسی درآمد شدہ قیادت، کسی میڈیا انجینئرنگ یا کسی خفیہ سیاسی بندوبست سے روکا نہیں جا سکتا ان شاء اللہ۔
تاریخ نہ جلوس دیکھتی ہے، نہ بینرز، نہ میڈیا کی سرخیاں۔ وہ صرف ایک سوال پوچھتی ہے: مشکل وقت میں تم کہاں تھے؟ اس سوال کا جواب سترہ سال بعد دی گئی تقاریر یا واپسی کے مناظر سے نہیں بدلا جا سکتا۔ قومیں وقتی تاثر سے بہک سکتی ہیں، مگر تاریخ کبھی دھوکا نہیں کھاتی۔ بنگلا دیش آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کون ’’قابل ِ قبول‘‘ ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون قابل ِ اعتبار ہے۔ اور اعتبار ہمیشہ قربانی، کردار اور استقامت سے بنتا ہے این آر او سے نہیں۔
آخر میں یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ سیاست صرف چہروں اور بینرز کا کھیل نہیں، بلکہ اصول، قربانی اور عوام کے اعتماد کا امتحان ہے۔ اگر قیادت صرف محفوظ فاصلے سے بیانات دیتی رہی اور اپنی سیاسی اور اخلاقی ذمے داریوں سے گریز کرتی رہی، تو وہ کبھی تاریخی احترام نہیں پا سکتی۔ اور جو قومیں تاریخ کے اس اصول کو بھول جاتی ہیں، وہ ہمیشہ اپنے سیاسی مستقبل میں دھوکہ کھاتی ہیں۔ ان شاء اللہ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سترہ سال بعد بنگلا دیش نہیں بلکہ اور عوام کرتا ہے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔