کھیل کے میدانوں میں نفرت: مودی سرکار نے کرکٹ کو سیاست کی نذر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت میں مودی حکومت کی جارحانہ اور نفرت انگیز پالیسیوں کا دائرہ اب کھیل کے میدان تک بھی پھیل چکا ہے، جہاں کرکٹ جیسے عالمی اور مقبول کھیل کو بھی تنگ نظری، تعصب اور سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
سیاسی، دفاعی اور عالمی سفارت کاری کے محاذ پر مسلسل پسپائی اور تنہائی کا شکار بھارت ایک بار پھر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کھیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ کے بعد اب بنگلا دیش کرکٹ کو بھی بھارتی انتہا پسند ہندو ذہنیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہندوتوا نظریے کی علمبردار جماعت شیوسینا نے بنگلا دیشی کرکٹرز کی انڈین پریمئر لیگ میں شرکت کی کھل کر مخالفت شروع کر دی ہے، جسے کھیل میں کھلی سیاسی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔
ہریانہ میں شیوسینا کے سربراہ نیر ج سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں آئی پی ایل میچز کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب کہ انہوں نے مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بنگلا دیش نے بھارت مخالف مؤقف جاری رکھا تو اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
نیر ج سیٹھی کے اس بیان نے نہ صرف کرکٹ حلقوں کو حیران کیا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس سوچ پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کھلاڑیوں کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کھیل سے روکنا بین الاقوامی اسپورٹس اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ رویہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت میں ہندوتوا نظریہ کھیلوں کو بھی نفرت اور تعصب کے ایجنڈے کے تحت استعمال کر رہا ہے۔
آئی پی ایل جسے کبھی کرکٹ کی سب سے بڑی اور منافع بخش لیگ قرار دیا جاتا تھا، اب تیزی سے اپنی ساکھ کھوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اور انتہا پسند جماعتوں کی مسلسل مداخلت نے اس لیگ کو بھی متنازع بنا دیا ہے، جہاں کھیل کی روح، غیر جانبداری اور جینٹل مین گیم کی روایات کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔
بنگلا دیشی کھلاڑیوں کی مخالفت دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا آغاز ماضی میں پاکستانی کھلاڑیوں پر غیر اعلانیہ پابندیوں سے ہو چکا تھا۔
عالمی سطح پر شیوسینا کی اس مخالفت نے بھارت کے اس مکروہ چہرے کو مزید بے نقاب کر دیا ہے، جہاں کھیل کو امن، دوستی اور مقابلے کے بجائے نفرت، دھمکی اور سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر بھارت نے یہی روش برقرار رکھی تو نہ صرف آئی پی ایل بلکہ بھارتی کرکٹ بھی عالمی تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔