انتہا پسند ہندوتوا جماعت شیوسینا نے بنگلا دیشی کرکٹرز کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میچوں میں شرکت کی مخالفت کر دی۔

کھیل کے میدان میں بھی مودی کی جارحیت اور نفرت انگیز رویہ برقرار ہے۔ سیاسی، دفاعی اور عالمی سفارت کاری کے محاذ پر پسپائی کے شکار بھارت نے ایک مرتبہ پھر کھیل کو سیاست کی نذر کر دیا۔

پاکستان کرکٹ کے بعد اب بنگلا دیش کرکٹ بھی بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے تعصب کی بھینٹ چڑھ گئی۔

ہریانہ میں شیوسینا کے سربراہ نیرج سیٹھی نے بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں میچز کھیلنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر دیا۔

مزید پڑھیں

بنگلا دیشی ویمن کرکٹر کے ہراسانی کے الزامات، انکوائری کمیٹی کو مزید مہلت مل گئی

نیرج سیٹھی کے مطابق شیوسینا نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلا دیشی کھلاڑی بھارت میں آئی پی ایل میچ نہیں کھیلیں گے۔

بھارت کی مخالفت جاری رکھنے پر نیرج سیٹھی نے بنگلا دیش کو مزید میچز کی پابندی کی دھمکی بھی دے دی۔ شیوسینا کی مخالفت نے عالمی سطح پر بھارت کی کھیل میں سیاست کے گھناؤنے امتزاج کی تصویر واضح کر دی۔

تیزی سے پستی کا شکار ہوتی آئی پی ایل کو ہندوتوا کی نظر کر کے مودی نے جینٹل مین گیم کی ساکھ مزید برباد کر دی۔ کھیل کے میدان میں نفرت انگیز سیاست کی تشہیر نے بھارت کا انتہا پسند مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے  آشکار کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بنگلا دیشی ا ئی پی ایل

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی